مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 17 Al-Israa — آیت 4

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ · مکی · Fateh Muhammad Jalandhry

4

وَقَضَيْنَآ إِلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ فِى ٱلْكِتَٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِى ٱلْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّۭا كَبِيرًۭا

اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ زمین میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے

waqaḍaynā ilā banī is'rāīla fī l-kitābi latuf'sidunna fī l-arḍi marratayni walataʿlunna ʿuluwwan kabīran

لفظ بہ لفظ

  • وَقَضَيْنَآ waqaḍaynā And We decreed
  • إِلَىٰ ilā for
  • بَنِىٓ banī (the) Children
  • إِسْرَٰٓءِيلَ is'rāīla (of) Israel
  • فِى fī in
  • ٱلْكِتَـٰبِ l-kitābi the Book
  • لَتُفْسِدُنَّ latuf'sidunna Surely you will cause corruption
  • فِى fī in
  • ٱلْأَرْضِ l-arḍi the earth
  • مَرَّتَيْنِ marratayni twice
  • وَلَتَعْلُنَّ walataʿlunna and surely you will reach
  • عُلُوًّۭا ʿuluwwan haughtiness
  • كَبِيرًۭا kabīran great
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتب لتفسدون فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیرا (71 : 4) ” پھر ہم اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر بھی متنبہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھائو گے “۔ یہ تنبیہ ان کو دراصل اس بات کی پیشگی اطلاع تھی کہ تمہارے ساتھ یہ یہ ہونے والا ہے۔ کیونکہ اللہ ان کے ہونے والے انجام سے پیشگی باخبر تھا۔ یہ اطلاع محض پیشگی علم کی وجہ سے تھی۔ اس میں ان کے لئے جبر کا کوئی پہلو نہ تھا۔ یا یہ کہ ان کے اندر جو فساد بعد میں پیدا ہوا ، وہ محض اس پیشگی اطلاع کی وجہ سے پیدا ہوا ، کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کسی کو فساد پر مجبور کرے۔

قل ان اللہ لا یا مر بالفحشاء ” کہہ دو ، اللہ فحاشی پھیلانے کا حکم نہیں دیتا “۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ وہ کیا کرنے والے تھے۔ اللہ کے علم میں جو بات ہوتی ہے ، اگرچہ بشر کو اس کا علم نہیں ہوتا اور پردہ تب اٹھتا ہے جو بشر اس کام کو کر بیٹھتا ہے۔

اللہ کا فیصلہ یہ تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب میں بتا بھی دیا تھا کہ بنی اسرائیل اپنی تاریخ میں دو مرتبہ فساد برپا کریں گے۔ اور اس طرح وہ زمین میں سرکشی اختیار کرلیں گے۔ بیت المقدس پر ان کا غلبہ ہوگا۔ لیکن اپنے اس غلبے کو دوہ ذریعہ فساد بتائیں گے۔ جن لوگوں پر ان کو برتری حاصل ہوگی ان کی جان اور آبرو کے نزدیک مباح ہوجائے گی اور یہ لوگوں کو تباہ کردیں گے۔