سورہ 16 An-Nahl — آیت 102
قُلْ نَزَّلَهُۥ رُوحُ ٱلْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ لِيُثَبِّتَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهُدًۭى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ
کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لے کر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے
qul nazzalahu rūḥu l-qudusi min rabbika bil-ḥaqi liyuthabbita alladhīna āmanū wahudan wabush'rā lil'mus'limīna
لفظ بہ لفظ
- قُلْ qul Say
- نَزَّلَهُۥ nazzalahu Has brought it down
- رُوحُ rūḥu the Holy Spirit
- ٱلْقُدُسِ l-qudusi the Holy Spirit
- مِن min from
- رَّبِّكَ rabbika your Lord
- بِٱلْحَقِّ bil-ḥaqi in truth
- لِيُثَبِّتَ liyuthabbita to make firm
- ٱلَّذِينَ alladhīna those who
- ءَامَنُوا۟ āmanū believe
- وَهُدًۭى wahudan and (as) a guidance
- وَبُشْرَىٰ wabush'rā and glad tidings
- لِلْمُسْلِمِينَ lil'mus'limīna to the Muslims
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق (61 : 201) ” کہہ دو اسے تو روح القدس مانے ٹھیک ٹھیک تیرے رب کی طرف سے بتدریج مجھ پر نازل کیا ہے “۔ لہٰذا اس بات کا امکان ہی نہیں رہتا کہ افتراء ہو۔ اسے روح القدس لے کر آئے ہیں ، اللہ کی طرف سے لائے ہیں اور اس کی تعلیمات سچائی پر مشتمل ہیں۔ ان میں باطل کا شائبہ تک نہیں ہے اور یہ اس لئے آئی کہ یشت الذین امنوا (61 : 201) ” تاکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کریں “۔ ان کے دل اللہ کے ساتھ جڑ جائیں اور وہ معلوم کرلیں کہ یہ تعلیمات اللہ کی طرف سے ہیں۔ وہ حق پر جم جائیں اور ان کی سچائی پر مطمئن ہوجائیں تاکہ وھدی و بشری للمسلمین (61 : 201) ” اور فرماں برداروں کو زندگی کے معاملات میں سیدھی راہ بتائے اور انہیں سعادت اور فلاح کی خوشخبری دے “۔ یہ خوشخبری خصوصا نصرت اور تمکین فی الارض کے بارے میں ہے۔