مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 72 Al-Jinn — آیت 26

سُورَةُ الجِنِّ · مکی · Fateh Muhammad Jalandhry

26

عَٰلِمُ ٱلْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِۦٓ أَحَدًا

غیب (کی بات) جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا

ʿālimu l-ghaybi falā yuẓ'hiru ʿalā ghaybihi aḥadan

لفظ بہ لفظ

  • عَـٰلِمُ ʿālimu (The) All-Knower
  • ٱلْغَيْبِ l-ghaybi (of) the unseen
  • فَلَا falā so not
  • يُظْهِرُ yuẓ'hiru He reveals
  • عَلَىٰ ʿalā from
  • غَيْبِهِۦٓ ghaybihi His unseen
  • أَحَدًا aḥadan (to) anyone
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

علم الغیب ................ احدا (27 : 62) ” وہ عالم الغیب ہے ، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا “۔ یوں نبی ﷺ سے اولوہیت کی تمام صفات کی نفی کردی جاتی ہے اور آپ صرف بندہ مختار رہ جاتے ہیں اور کسی انسان کے لئے بندگی سے بڑا کوئی وصف اور اعزاز نہیں ہوسکتا۔ بندگی اور عبودیت انسان کے مراتب درجات میں سے اعلیٰ مرتبہ اور درجہ ہوتا ہے۔ چناچہ اس طرح نبی ﷺ کو الوہیت کی تمام صفات سے مبرا کردیا جاتا ہے اور حکم دے دیا جاتا ہے کہ آپ تبلیغ کریں۔ ” کہو ، میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے ، وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لئے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے۔ وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا “۔

اس سے فقط ایک استثناء ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کسی غیب کے بارے میں اجازت دے دے اور اس سے کسی رسول کو مطلع کردیا جائے۔ اور یہ بھی ان معاملات کے بارے میں جن کا تعلق آپ کو دعوت کے فرائض سے ہے کیونکہ نبی ﷺ کی طرف جن باتوں کا پیغام آتا تھا تو وہ بھی غیبی امور ہی تھے۔ اپنے وقت میں حضور پر ایک مقدار کے مطابق احکام آتے تھے اور پھر رسولوں کی بھی آگے پیچھے سے نگرانی کی جاتی تھی کہ ان پر جو غیب آیا ہے انہوں نے اس کی تبلیغ کردی ہے یا نہیں۔ حضور اکرم کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اس بات کا اعلان بھی کردیں اور نہایت صراحت اور سنجیدگی کے ساتھ اور نہایت ہی خشوع کے ساتھ کردیں۔