سورہ 64 At-Taghaabun — آیت 1
يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۖ لَهُ ٱلْمُلْكُ وَلَهُ ٱلْحَمْدُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ
جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی سچی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف (لامتناہی) ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
yusabbiḥu lillahi mā fī l-samāwāti wamā fī l-arḍi lahu l-mul'ku walahu l-ḥamdu wahuwa ʿalā kulli shayin qadīrun
لفظ بہ لفظ
- يُسَبِّحُ yusabbiḥu Glorifies
- لِلَّهِ lillahi [to] Allah
- مَا mā whatever
- فِى fī (is) in
- ٱلسَّمَـٰوَٰتِ l-samāwāti the heavens
- وَمَا wamā and whatever
- فِى fī (is) in
- ٱلْأَرْضِ ۖ l-arḍi the earth
- لَهُ lahu For Him
- ٱلْمُلْكُ l-mul'ku (is the) dominion
- وَلَهُ walahu and for Him
- ٱلْحَمْدُ ۖ l-ḥamdu (is) the praise
- وَهُوَ wahuwa And He
- عَلَىٰ ʿalā (is) on
- كُلِّ kulli every
- شَىْءٍۢ shayin thing
- قَدِيرٌ qadīrun All-Powerful
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
زمین اور آسمانوں میں ، جو مخلوق بھی ہے ، وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہے۔ اس کی تسبیح اور تعریف کررہی ہے۔ گویا اس پوری کائنات کی روح مومن ہے۔ اور اس پوری کائنات کا دل مومن ہے۔ اللہ اس پوری کائنات کا مالک ہے۔ اور اس کائنات کی ہر چیز میں اس کا شعور بھی ہے۔ اللہ اپنی ذات میں بھی ستودہ صفات ہے اور اس مخلوقات کے اندر بھی اس کی تعریف اور تمجید ہوتی ہے۔ اب اگر اس وسیع کائنات کے سمندر میں ایک اکیلا انسان کافر بن جائے اور اس کی روح اور اس کا قلب غافل اور منکر ہو ، وہ سرکش اور نافرمان ہو ، اللہ کی تسبیح نہ کرے ، اس کی طرف متوجہ نہ ہو تو یہ بالکل شاذ ہوگا ، اور انوکھا ہوگا ، اور عجیب ہوگا اور نمایاں طور پر الگ ہوگا۔ اس طرح جس طرح کسی کو یہ پوری کائنات دھتکار دے۔
وھو علی ................ قدیر (36 : 1) ” اور وہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اللہ کی قدرت بےقید اور لامحدود ہے۔ قلب مومن میں قرآن اس حقیقت کو طبع کرتا ہے۔ یوں انسان اس حقیقت کو جانتا ہے اور اس کے مدلول سے متاثر ہوتا ہے۔ اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ قدرت جو چاہے اس کے ساتھ کرے۔ وہ اپنے آپ کو قدرت کے سپرد کردیتا ہے کہ قدرت اس معاملات کے اندر جو چاہے تصرف کرے۔
قدرت الٰہیہ کا یہ جامع تصور کہ ہر شے اس کی تسبیح کرتی ہے ، اس کی تعریف کرتی ہے اور اس کی طرف متوجہ ہے ، یہ اسلام کے اس عظیم جامع تصور کا ایک اہم پہلو ہے۔
دوسری چٹکی خود قلب انسانی کے اندر۔ انسان کا یہ چھوٹا سا دل اس عظیم کائنات کے سمندر کے اندر ہے۔ یہ پوری کائنات تسبیح الٰہی اور حمد الٰہی میں رطب اللسان ہے۔ یہ چھوٹا سا دل کبھی مومن بن جاتا ہے اور کبھی کافر۔ اس چھوٹے انسان کا چھوٹا قلب ہی اس کائنات میں ایسا موقف اختیار کرتا ہے ۔ کائنات کی کوئی شے اس کفر میں اس کا ساتھ نہیں دیتی۔