مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 34 Saba — آیت 43

سُورَةُ سَبَإٍ · مکی · Fateh Muhammad Jalandhry

43

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٍۢ قَالُوا۟ مَا هَٰذَآ إِلَّا رَجُلٌۭ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُكُمْ وَقَالُوا۟ مَا هَٰذَآ إِلَّآ إِفْكٌۭ مُّفْتَرًۭى ۚ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ

اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے (جو اپنی طرف سے) بنا لیا گیا ہے۔ اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

wa-idhā tut'lā ʿalayhim āyātunā bayyinātin qālū mā hādhā illā rajulun yurīdu an yaṣuddakum ʿammā kāna yaʿbudu ābāukum waqālū mā hādhā illā if'kun muf'taran waqāla alladhīna kafarū lil'ḥaqqi lammā jāahum in hādhā illā siḥ'run mubīnun

لفظ بہ لفظ

  • وَإِذَا wa-idhā And when
  • تُتْلَىٰ tut'lā are recited
  • عَلَيْهِمْ ʿalayhim to them
  • ءَايَـٰتُنَا āyātunā Our Verses
  • بَيِّنَـٰتٍۢ bayyinātin clear
  • قَالُوا۟ qālū they say
  • مَا mā Not
  • هَـٰذَآ hādhā (is) this
  • إِلَّا illā but
  • رَجُلٌۭ rajulun a man
  • يُرِيدُ yurīdu who wishes
  • أَن an to
  • يَصُدَّكُمْ yaṣuddakum hinder you
  • عَمَّا ʿammā from what
  • كَانَ kāna used
  • يَعْبُدُ yaʿbudu (to) worship
  • ءَابَآؤُكُمْ ābāukum your forefathers
  • وَقَالُوا۟ waqālū And they say
  • مَا mā Not
  • هَـٰذَآ hādhā (is) this
  • إِلَّآ illā except
  • إِفْكٌۭ if'kun a lie
  • مُّفْتَرًۭى ۚ muf'taran invented
  • وَقَالَ waqāla And said
  • ٱلَّذِينَ alladhīna those who
  • كَفَرُوا۟ kafarū disbelieved
  • لِلْحَقِّ lil'ḥaqqi about the truth
  • لَمَّا lammā when
  • جَآءَهُمْ jāahum it came to them
  • إِنْ in Not
  • هَـٰذَآ hādhā (is) this
  • إِلَّا illā except
  • سِحْرٌۭ siḥ'run a magic
  • مُّبِينٌۭ mubīnun obvious
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

درس نمبر 198 ایک نظر میں

اس سورة کے اس آخری سبق کا آغاز مشرکین اور نبی ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں ان کے اقوال سے ہوتا ہے۔ ان کو یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ ان جیسے لوگوں کا انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ انسانی تاریخ کی ایسی اقوام کی داستانوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو ان سے زیادہ قوی ، زیادہ علم والی اور زیادہ مالدار تھیں ، جن کو اس دنیا ہی میں پکڑ لیا گیا۔

اس کے بعد عقل و خرد کے تاروں پر مسلسل شدید ترین ضربات لگائی جاتی ہیں۔ پہلی ضرب میں ان کو یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ ذرا تنہائی میں ، تمام رکاوٹوں اور پردوں کو ہٹا کر جو انہیں صحیح فکر و نظر سے روکتے ہیں اللہ کے بارے میں سوچیں۔ دوسری ضرب میں ، ان کو اس حقیقت پر غور کرنے کے لئے دعوت دی گئی ہے کہ وہ دیکھیں کہ نبی کریم ﷺ ان لوگوں کو مسلسل جو دعوت دے رہے ہیں اس دعوت میں ان کا کوئی مفاد بھی نہیں ہے اور آپ ان سے اجر بھی طلب نہیں کرتے تو آخر یہ لوگ حضور ﷺ کی دعوت میں شک کیوں کرتے ہیں اور منہ کیوں موڑتے ہیں۔ اس کے بعد قل قل قل سے یہ ضربات مسلسل لگائی جاتی ہیں اور یہ اس قدر زور دار ہیں کہ اگر کسی دل میں ذرہ برابر بھی شعور ہو تو وہ متاثر ہوئے نظر نہیں رہ سکتا۔

اور یہ سبق قیامت کے ایک نہایت ہی متحرک منظر پر ختم ہوتا ہے جو نہایت ہی متحرک ہے اور سابقہ ضربات کے ساتھ مناسب ہے۔

درس نمبر 198 تشریح آیات

43 ۔۔۔ تا۔۔۔ 54