مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 2 Al-Baqara — آیت 65

سُورَةُ البَقَرَةِ · مدنی · Fateh Muhammad Jalandhry

65

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ ٱلَّذِينَ ٱعْتَدَوْا۟ مِنكُمْ فِى ٱلسَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا۟ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ

اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہوں، جو تم میں سے ہفتے کے دن (مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے، تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل وخوار بندر ہو جاؤ

walaqad ʿalim'tumu alladhīna iʿ'tadaw minkum fī l-sabti faqul'nā lahum kūnū qiradatan khāsiīna

لفظ بہ لفظ

  • وَلَقَدْ walaqad And indeed
  • عَلِمْتُمُ ʿalim'tumu you knew
  • ٱلَّذِينَ alladhīna those who
  • ٱعْتَدَوْا۟ iʿ'tadaw transgressed
  • مِنكُمْ minkum among you
  • فِى fī in
  • ٱلسَّبْتِ l-sabti the (matter of) Sabbath
  • فَقُلْنَا faqul'nā So We said
  • لَهُمْ lahum to them
  • كُونُوا۟ kūnū Be
  • قِرَدَةً qiradatan apes
  • خَـٰسِـِٔينَ khāsiīna despised
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

دوسری جگہ قرآن کریم نے سبت کے احکام کی خلاف ورزی کی تفصیلات بیان کی ہیں ۔ “ اور ذرا ان سے اس بستی کا حال بھی پوچھئے ، جو سمندر کے کنارے واقع تھی ۔ انہیں یاد دلاؤ کہ وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ “ (7۔ 213)

بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ ان کے آرام کے لئے ایک دن کو مقدس قرار دیا جائے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے سبت کے دن کو مقدس قرار دیا اور اس دن دنیاوی معاش کے لئے کوئی کام کرنا حرام قرار دیا۔ اس کے بعد انہیں اس آزمائش میں ڈالا کہ ہفتے کے دن تمام مچھلیاں بڑی کثرت سے دریا کی سطح پر نکل آتیں اور دسرے دنوں میں غائب ہوتیں۔ یہ ایسی آزمائش تھی ، جس کے مقابلے میں یہود نہ ٹھہر سکے ۔ ان کے لئے ثابت قدمی کیسے ممکن تھی ۔ ایسا بہترین شکار بالکل قریب مل رہا تھا ۔ انہیں اس کے سوا اور کیا چاہئے تھا ۔ کیا محض عہدوپیمان کی خاطر وہ اس شکارکو جانے دیتے ۔ یہودیوں سے بہرحال یہ کام نہیں ہونے کا ۔ یہ تو ان کے مزاج کے خلاف ہے ۔

فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ ” ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندربن جاؤ اور اس حال میں رہو کہ ہر طرف سے دھتکار پھٹکار تم پر پڑے۔ “

اللہ کا عہد تور کر بہرحال وہ اس سزا کے مستحق بن چکے تھے ۔ وہ اس بات کے مستحق تھے کہ حیوان بن جائیں کیونکہ انسان تو ایک صاحب ارادہ مخلوق ہے اور وہ اس مقام سے نیچے گرگئے تھے۔

ظاہر ہے کوئی حیوان اپنے پیٹ سے بلند ہوکر سوچ نہیں سکتا ۔ چناچہ جونہی انہوں نے انسان کی خصوصیت اولیٰ یعنی ٹھوس اور بلند ارادہ اور خداوند کریم کے ساتھ کئے ہوئے عہد پر قائم رہنے کا عزم صمیم ........ کو ترک کیا تو وہ مقام انسایت سے گر کر بہمیت کے درجے میں آگئے۔

یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کے جسم بھی بندر کے جسموں میں تبدیل ہوگئے ہوں ۔ ہوسکتا ہے کہ روح ، فکر ، شعور اور مزاج کے اعتبار سے وہ بندر بن گئے ہوں اور بندروں جیسی حرکتیں کرتے ہوں کیونکہ فکر کا پر تو ہمیشہ چہرے ، شکل وہیبت اور حرکات سکنات پر پڑتا ہے ۔ انسان کی ظاہری حالت پر اس کی فکر کے گہرے اثرات پڑتے ہیں ۔