سورہ 19 Maryam — آیت 63
تِلْكَ ٱلْجَنَّةُ ٱلَّتِى نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَن كَانَ تَقِيًّۭا
یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا
til'ka l-janatu allatī nūrithu min ʿibādinā man kāna taqiyyan
لفظ بہ لفظ
- تِلْكَ til'ka This
- ٱلْجَنَّةُ l-janatu (is) Paradise
- ٱلَّتِى allatī which
- نُورِثُ nūrithu We give (as) inheritance
- مِنْ min [of] (to)
- عِبَادِنَا ʿibādinā Our slaves
- مَن man (the one) who
- كَانَ kāna is
- تَقِيًّۭا taqiyyan righteous
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
تلک الجنۃ التی۔۔۔۔۔۔۔ کان تقیا (91 : 36) ” یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو پرہیز گا ررہا ہے “۔ جو شخص جنت کی وراثت چاہتا ہے ‘ اسے اللہ نے راہ بتادی ہے۔ یعنی توبہ ‘ ایمان ‘ عمل صالح۔ نسبی ورراثت کو یہاں ذریعہ استحقاق نہیں بنایا ہے۔ نسبی لحاظ سے ایک قوم نے ان برگزیدہ صالحین کیوراثت پائی تھی مگر انہوں نے نماز اور زکوۃ کو ضائع کردیا اور شہوات نفسانیہ کے پیچھے پڑگئے۔ ان کو نسبی وراثت نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ ایسے لوگ جلد ہی فسوف یلقون غیا (91 : 95) ” برے انجام تک پہنچ جائیں گے “۔
اس سبق کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ رب مطلق ہے۔ اس کی عبادت اور بندگی کرو اور اس راہ کی مشکلات پر صبر کرو اور اس کی ثبیہ اور نظیر کا انکار کرو۔