سورہ 16 An-Nahl — آیت 96
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٍۢ ۗ وَلَنَجْزِيَنَّ ٱلَّذِينَ صَبَرُوٓا۟ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے کہ (کبھی ختم نہیں ہوگا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم اُن کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے
mā ʿindakum yanfadu wamā ʿinda l-lahi bāqin walanajziyanna alladhīna ṣabarū ajrahum bi-aḥsani mā kānū yaʿmalūna
لفظ بہ لفظ
- مَا mā Whatever
- عِندَكُمْ ʿindakum (is) with you
- يَنفَدُ ۖ yanfadu will be exhausted
- وَمَا wamā and whatever
- عِندَ ʿinda (is) with
- ٱللَّهِ l-lahi Allah
- بَاقٍۢ ۗ bāqin (will) be remaining
- وَلَنَجْزِيَنَّ walanajziyanna And surely We will pay
- ٱلَّذِينَ alladhīna those who
- صَبَرُوٓا۟ ṣabarū (are) patient
- أَجْرَهُم ajrahum their reward
- بِأَحْسَنِ bi-aḥsani to (the) best
- مَا mā (of) what
- كَانُوا۟ kānū they used (to)
- يَعْمَلُونَ yaʿmalūna do
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
ما عندکم ینفد وما عند اللہ باق (61 : 59) ” جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہوجانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہی باقی رہنے والا ہے “۔ قرآن کریم وفائے عہد کے لئے لوگوں کے عزم کو قوت دیتا ہے اور وفائے عہد کی راہ میں تکالیف اٹھانے کی ترغیب دیتا ہے اور ان تکالیف پر صبر کرنے والوں کے ساتھ اجر حسن کا وعدہ کرتا ہے۔
ولنجرزین الذین صبروا اجرھم باحسن ما کانوا یعملون (61 : 69) ” اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو ان کے اجر ، ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے “ ۔ اور اس سلسلے میں ان سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں ان کو معاف کردیں گے۔ پس جزاء میں صرف اعمال کا اچھا پہلو ملحوظ رہے گا۔
عمل اور جزاء کی مناسبت سے یہاں عمومی ضابطہ بتا دیا جاتا ہے۔