سورہ 16 An-Nahl — آیت 121
شَاكِرًۭا لِّأَنْعُمِهِ ۚ ٱجْتَبَىٰهُ وَهَدَىٰهُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ
اس کی نعمتوں کے شکرگزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا
shākiran li-anʿumihi ij'tabāhu wahadāhu ilā ṣirāṭin mus'taqīmin
لفظ بہ لفظ
- شَاكِرًۭا shākiran Thankful
- لِّأَنْعُمِهِ ۚ li-anʿumihi for His favors
- ٱجْتَبَىٰهُ ij'tabāhu He chose him
- وَهَدَىٰهُ wahadāhu and guided him
- إِلَىٰ ilā to
- صِرَٰطٍۢ ṣirāṭin the way
- مُّسْتَقِيمٍۢ mus'taqīmin straight
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
شاکر الانعمہ (61 : 121) ” وہ اللہ کی نعمتوں پر شکر گزار تھے “۔ قول کے ساتھ بھی اور عمل کے ساتھ بھی۔ جبکہ مشرکین مکہ زبانی طور پر بھی اللہ کے انعامات کی ناشکری کرتے ہیں اور عملاً بھی کفران نعمت کرتے ہیں۔ اس طرح کہ وہ اللہ کے انعامات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ اور محض اوہام اور خواہشات کے نتیجے میں اللہ کی بعض نعمتوں کو اپنے اوپر حرام کرتے ہیں۔
اجتبہ (61 : 121) ” اللہ نے انہیں چن لیا “۔
وھدہ الی صراط مستقیم (61 : 121) ” اور اسے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دی “ اور صراط مستقیم خالص اور سیدھی توحید کی راہ ہے۔ یہ ہیں حضرت ابراہیم جن کے ساتھ یہودی بھی تعلق جوڑتے ہیں اور جن کے ساتھ مشرکین مکہ بھی اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں۔