سورہ 70 Al-Ma'aarij — آیت 11
يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ ٱلْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِى مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍۭ بِبَنِيهِ
ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے (اس روز) گنہگار خواہش کرے گا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں (سب کچھ) دے دے یعنی اپنے بیٹے
yubaṣṣarūnahum yawaddu l-muj'rimu law yaftadī min ʿadhābi yawmi-idhin bibanīhi
لفظ بہ لفظ
- يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ yubaṣṣarūnahum They will be made to see each other
- يَوَدُّ yawaddu Would wish
- ٱلْمُجْرِمُ l-muj'rimu the criminal
- لَوْ law if
- يَفْتَدِى yaftadī he (could be) ransomed
- مِنْ min from
- عَذَابِ ʿadhābi (the) punishment
- يَوْمِئِذٍۭ yawmi-idhin (of) that Day
- بِبَنِيهِ bibanīhi by his children
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
ولا یسئل ............................ ینجیہ (41) (07 : 01 تا 41) ” کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیرا سے نجات دلادے “۔
لوگ اس دن نہایت پریشان ہوں گے اور ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔ کوئی شخص اپنے سوا کسی دوسرے کی طرف ملتفت ہونے کا موقعہ نہ پائے گا۔ اور اس کے شعور میں کسی غیر کے لئے کوئی وسعت نہ ہوگی ، جگری دوست بھی جگری دوست کو نہ پوچھے گا ، ایک مدہوس کردینے والا خوف ہوگا اور اس کی وجہ سے لوگوں کے تمام روابط منقطع ہوں گے اور ہر شخص اپنے مسائل اور اپنی پریشانی میں گھرا ہوگا۔ وہ ایک دوسرے پر پیش کیے جائیں گے اور ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور عمداً ایسا کیا جائے گا لیکن ہر کسی کو اپنی پڑی ہوگی۔ ہر ضمیر کا اپنا شغل ہوگا۔ لہٰذا دوست دوست کو نہ پوچھے گا ، نہ کوئی کسی سے مدد طلب کرسکے گا۔
اور مجرم کا حال کیا ہوگا ؟ اس کی جان خوف کے ہاتھ میں ہوگی۔ اس کا احساس ہی جاتا رہے گا اور وہ اس دن کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اپنی عزیز ترین متاع دینے کے لئے تیار ہوگا۔ جبکہ اس زندگی میں وہ اس متاع پر جان چھڑکتا تھا ، اور اس کی پوری زندگی ان کے لئے تھی۔ مثلاً اولاد ، بیوی ، بھائی ، خاندان جو حامی و مددگار ہوتا ہے۔ بلکہ اس دن اپنی جان کو بچانے کے لئے تو وہ اس پوری دنیا کے اموال واقتدار کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوگا ، کہ کسی طرح نجات پاجائے۔ رنج والم کی یہ کس قدر بھیانک تصویر ہے۔ یہ شخص نیم مدہوش ہے اور پوری کائنات بخشنے کے لئے تیار ہے۔ یہ انداز تعبیر قرآن کے ساتھ مخصوص ہے۔
یہ ہے مجرم کی حالت ، یہ ہیں اس کی تمنائیں کہ اس حالت میں وہ ایسے حالات دیکھتا ہے کہ امید کی آخری چنگاری بھی بجھ جاتی ہے ، جھوٹی تمنائیں ختم ہوجاتی ہیں اور اصل اور حقیقی صورت حالات سامنے آتی ہے۔