سورہ 68 Al-Qalam — آیت 39
أَمْ لَكُمْ أَيْمَٰنٌ عَلَيْنَا بَٰلِغَةٌ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۙ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ
یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن تک چلی جائیں گی کہ جس شے کا تم حکم کرو گے وہ تمہارے لئے حاضر ہوگی
am lakum aymānun ʿalaynā bālighatun ilā yawmi l-qiyāmati inna lakum lamā taḥkumūna
لفظ بہ لفظ
- أَمْ am Or
- لَكُمْ lakum for you
- أَيْمَـٰنٌ aymānun oaths
- عَلَيْنَا ʿalaynā from us
- بَـٰلِغَةٌ bālighatun reaching
- إِلَىٰ ilā to
- يَوْمِ yawmi (the) Day
- ٱلْقِيَـٰمَةِ ۙ l-qiyāmati (of) the Resurrection
- إِنَّ inna indeed
- لَكُمْ lakum for you
- لَمَا lamā (is) what
- تَحْكُمُونَ taḥkumūna you judge
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
ام لکم .................... تحکمون (86 : 93) ” یا پھر کیا تمہارے لئے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہدوپیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاﺅ“۔ اگر کتاب نہیں ہے تو پھر اللہ کا کوئی عہد تمہارے ساتھ ہوگا پھم ؟ اور یہ عہد قیامت تک کے لئے ہوگا۔ اور اس کے مطابق تمہارا یہ حق تسلیم کرلیا گیا ہوگا ، کہ تمہارے نفس کے بارے میں تمہارا اپنا اختیار ہے تم جو چاہو ، کرو لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے ، اللہ کے ہاں ایسا عہد کسی کے ساتھ نہیں ہے۔ آخر وہ کس بنیاد پر ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کی دلیل کیا ہے ؟