سورہ 60 Al-Mumtahana — آیت 5
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةًۭ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَٱغْفِرْ لَنَا رَبَّنَآ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کے ہاتھ سے عذاب نہ دلانا اور اے پروردگار ہمارے ہمیں معاف فرما۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے
rabbanā lā tajʿalnā fit'natan lilladhīna kafarū wa-igh'fir lanā rabbanā innaka anta l-ʿazīzu l-ḥakīmu
لفظ بہ لفظ
- رَبَّنَا rabbanā Our Lord
- لَا lā (do) not
- تَجْعَلْنَا tajʿalnā make us
- فِتْنَةًۭ fit'natan a trial
- لِّلَّذِينَ lilladhīna for those who
- كَفَرُوا۟ kafarū disbelieve
- وَٱغْفِرْ wa-igh'fir and forgive
- لَنَا lanā us
- رَبَّنَآ ۖ rabbanā our Lord
- إِنَّكَ innaka Indeed You
- أَنتَ anta [You]
- ٱلْعَزِيزُ l-ʿazīzu (are) the All-Mighty
- ٱلْحَكِيمُ l-ḥakīmu the All-Wise
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
اس قصے کے دوران حضرت ابراہیم کی دعا کا یہ حصہ بھی اہم ہے۔
ربنا لا ........................ کفروا (06 : 5) ” اے ہمارے رب ہمیں کافروں کے لئے فتنہ نہ بنا دے “ ان کافروں کو ہم پر مسلط نہ کر ، کہ یہ تسلط ان کافروں کے لئے فتنہ ہوجائے ، وہ یہ کہیں کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے اور ان کا ایمان ان کو بچا سکتا ، تو ہم ان پر کس طرح غالب ہوجاتے۔ اور یہی شبہات ہر دور میں اہل ایمان کے دلوں میں بھی پیدا ہوتے ہیں ، جب اہل باطل اور اہل کفر اہل ایمان پر غالب ہوجاتے ہیں۔ اور باغی اور سرکشی اہل ایمان پر غالب ہوتے ہیں اور اس میں بھی اللہ کی حکمت ہوتی ہے۔ اور یہ غلبہ ایک وقت کے لئے ہوتا ہے۔ مومن ان ابتلاؤں پر صبر کرتا ہے۔ لیکن ایسے حالات میں بھی اہل ایمان کو دعا کرنا چاہئے کہ وہ ان کو ایسی آزمائشوں میں نہ ڈالے۔
واغفرلنا ربنا (0 : 5) ” اے ہمارے رب ، ہمارے قصوروں سے درگزر فرما “۔ یہ دعا حضرت ابراہیم خلیل اللہ کررہے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی بندگی کا جو اعلیٰ مقام ہے۔ اس تک پہنچنا مشکل ہے اور اللہ کی نعمتوں اور احسانات کے برابر اللہ کی بندگی کوئی بشر نہیں کرسکتا جو اللہ کی پاکی اور جلالت شان کے برابر ہو۔ اس لئے آپ یہ دعا کرتے ہیں کہ آپ کے بعد آنے والوں کے لئے یہ نمونہ ہو۔
آپ کی دعا ، آپ کا رجوع الی اللہ ، آپ کے استغفار ، آپ کی تعریف رب کا خاتمہ یوں ہے :
انک انت .................... الحکیم (06 : 5) ” بیشک تو ہی زبردست اور دانا ہے “۔ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور تیرے سب کام حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔
ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کے اس طرز عمل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں تمہارے لئے ایک بہترین نمونہ ہے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں رجوع الی اللہ کیا اور اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردیا۔