سورہ 56 Al-Waaqia — آیت 47
وَكَانُوا۟ يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًۭا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ
اور کہا کرتے تھے کہ بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے اور ہڈیاں (ہی ہڈیاں رہ گئے) تو کیا ہمیں پھر اُٹھنا ہوگا؟
wakānū yaqūlūna a-idhā mit'nā wakunnā turāban waʿiẓāman a-innā lamabʿūthūna
لفظ بہ لفظ
- وَكَانُوا۟ wakānū And they used (to)
- يَقُولُونَ yaqūlūna say
- أَئِذَا a-idhā When
- مِتْنَا mit'nā we die
- وَكُنَّا wakunnā and become
- تُرَابًۭا turāban dust
- وَعِظَـٰمًا waʿiẓāman and bones
- أَءِنَّا a-innā will we
- لَمَبْعُوثُونَ lamabʿūthūna surely be resurrected
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
وکانو ................ الاولون (6 5: 8 4)
” اور کہتے تھے کیا جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجررہ جائے گا تو پھر اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ؟ اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو گزر چکے ہیں۔ “ یہ لوگ یوں تھے۔ گویا یہ دنیا اب نہیں ہے۔ یہ لوگ میدان حشر میں کھڑے ہیں۔ دنیا ماضی پارینہ ہے اور یہ اب وہاں عذاب کے سامنے کھڑے ہیں یہ اس لئے کہ دنیا کا تو ایک مختصر وقت ہے۔ اتنا ہی جتنا پلک جھپکنے کا وقت لگتا ہے۔ اصل وقت ، حاضر وقت تو آخرت کا وقت ہے جہاں دوام ہے۔
سباق کلام اب پھر ہمیں دنیا میں لاتا ہے کہ ان کے سوال کا جواب دیا جائے۔