سورہ 51 Adh-Dhaariyat — آیت 14
ذُوقُوا۟ فِتْنَتَكُمْ هَٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تَسْتَعْجِلُونَ
اب اپنی شرارت کا مزہ چکھو۔ یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے
dhūqū fit'natakum hādhā alladhī kuntum bihi tastaʿjilūna
لفظ بہ لفظ
- ذُوقُوا۟ dhūqū Taste
- فِتْنَتَكُمْ fit'natakum your trial
- هَـٰذَا hādhā This
- ٱلَّذِى alladhī (is) what
- كُنتُم kuntum you were
- بِهِۦ bihi for it
- تَسْتَعْجِلُونَ tastaʿjilūna seeking to hasten
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
ذوقوا ........ تستعجلون (51 : 41) ” اب چکھو مزا اپنے فتنے کا ، یہ وہی چیز ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے “.... اس سوال کا مناسب جواب یہی تھا اور مدہوشی اور گہری نیند میں سوئے ہوئے غافلوں کے لئے اس منظر میں یہ سختی نہایت ہی موزوں اور مطابق حال ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ان کے لئے بددعا کی ، نہایت سخت انداز میں لہٰذا مارے گئے اور آگ پر ان کو اس طرح تپایا جائے گا جس طرح کسی دھات کو تپایا جاتا ہے کہ اس سے کھوٹ نکالا جائے۔
اب ذرا فریق مقابل ، ذرا دوسرے پلیٹ فارم پر جائیں اور کتاب کا دوسرا صفحہ الٹیں ، وہاں دوسرا فریق کھڑا ہے جو وہم و گمان کی بات نہیں کرتا جس کی باتوں میں تزلزل نہیں ہے۔ یہ متقی ہیں متکبر نہیں۔ یہ جاگ رہے ہیں ، عبادت گزار ہیں ، استعفار کرنے والے ہیں اور اپنی عمر مدہوشیوں میں ضائع نہیں کرتے۔