مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 2 Al-Baqara — آیت 247

سُورَةُ البَقَرَةِ · مدنی · Fateh Muhammad Jalandhry

247

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ٱللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًۭا ۚ قَالُوٓا۟ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ ٱلْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِٱلْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةًۭ مِّنَ ٱلْمَالِ ۚ قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُۥ بَسْطَةًۭ فِى ٱلْعِلْمِ وَٱلْجِسْمِ ۖ وَٱللَّهُ يُؤْتِى مُلْكَهُۥ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌۭ

اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے

waqāla lahum nabiyyuhum inna l-laha qad baʿatha lakum ṭālūta malikan qālū annā yakūnu lahu l-mul'ku ʿalaynā wanaḥnu aḥaqqu bil-mul'ki min'hu walam yu'ta saʿatan mina l-māli qāla inna l-laha iṣ'ṭafāhu ʿalaykum wazādahu basṭatan fī l-ʿil'mi wal-jis'mi wal-lahu yu'tī mul'kahu man yashāu wal-lahu wāsiʿun ʿalīmun

لفظ بہ لفظ

  • وَقَالَ waqāla And said
  • لَهُمْ lahum to them
  • نَبِيُّهُمْ nabiyyuhum their Prophet
  • إِنَّ inna Indeed
  • ٱللَّهَ l-laha Allah
  • قَدْ qad (has) surely
  • بَعَثَ baʿatha raised
  • لَكُمْ lakum for you
  • طَالُوتَ ṭālūta Talut
  • مَلِكًۭا ۚ malikan (as) a king
  • قَالُوٓا۟ qālū They said
  • أَنَّىٰ annā How
  • يَكُونُ yakūnu can be
  • لَهُ lahu for him
  • ٱلْمُلْكُ l-mul'ku the kingship
  • عَلَيْنَا ʿalaynā over us
  • وَنَحْنُ wanaḥnu while we
  • أَحَقُّ aḥaqqu (are) more entitled
  • بِٱلْمُلْكِ bil-mul'ki to kingship
  • مِنْهُ min'hu than him
  • وَلَمْ walam and not
  • يُؤْتَ yu'ta he has been given
  • سَعَةًۭ saʿatan abundance
  • مِّنَ mina of
  • ٱلْمَالِ ۚ l-māli [the] wealth
  • قَالَ qāla He said
  • إِنَّ inna Indeed
  • ٱللَّهَ l-laha Allah
  • ٱصْطَفَىٰهُ iṣ'ṭafāhu has chosen him
  • عَلَيْكُمْ ʿalaykum over you
  • وَزَادَهُۥ wazādahu and increased him
  • بَسْطَةًۭ basṭatan abundantly
  • فِى fī in
  • ٱلْعِلْمِ l-ʿil'mi [the] knowledge
  • وَٱلْجِسْمِ ۖ wal-jis'mi and [the] physique
  • وَٱللَّهُ wal-lahu And Allah
  • يُؤْتِى yu'tī gives
  • مُلْكَهُۥ mul'kahu His kingdom
  • مَن man (to) whom
  • يَشَآءُ ۚ yashāu He wills
  • وَٱللَّهُ wal-lahu And Allah
  • وَٰسِعٌ wāsiʿun (is) All-Encompassing
  • عَلِيمٌۭ ʿalīmun All-Knowing
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

اس بحث و تکرار اور سوال و جواب سے بنی اسرائیل کی ایک اور خصوصیت کا اظہار ہوتا ہے ، جس کا تذکرہ اس سورت میں بارہا ہوا ہے ۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ان کے لئے ایک بادشاہ مقرر ہو ، جس کی قیادت میں رہ کر ، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کریں ، لیکن بادشاہ کے تقرر کا اعلان ہوتے ہی انہوں نے سرجھکالئے ، گردنیں پھیرلیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے بادشاہ کی تقرری اور نبی کی جانب سے اس کی اطلاع پر اس معاملے میں بحث و تکرار میں مشغول ہوگئے ۔ طالوت کی بادشاہت پر ناک بھنویں چڑھانے لگے ۔ یہ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ طالوت کے مقابلے میں اپنے آپ کو موروثی طور پر زیادہ مستحق رکھتے ہیں ۔ طالوت ایک تو شاہی خاندان سے نہ تھا ، دوسرے یہ کہ وہ کوئی دولت مند آدمی نہ تھا کہ دولت کی بناپر وراثت کے استحقاق کو نظر انداز کردیاجائے ۔ غرض یہ تاریک خیالی اور یہ لجاجت بنی اسرائیل کی مستقل خصوصیت ہے ۔

نبی وقت نے بتایا کہ وہ ذاتی خصوصیات کی وجہ سے زیادہ مستحق ہے اور یہ کہ اس کے انتخاب میں حکمت کارفرما ہے : قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ” اللہ نے تمہارے مقابلے میں اس کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی اور جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے ، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے۔ “

وہ ایسا شخص ہے جسے اللہ نے چنا ہے ۔ یہ تو اس کی صفت ہے ۔ اس کو دماغی اور جسمانی قابلیتیں دی ہیں ۔ یہ اس کی دوسری ترجیح ہے اور پھر اللہ جسے چاہے اپنا ملک عطا کردے ۔ وہ اس کا ملک ہے ۔ دنیا اس کی ہے ۔ وہ متصرف ومختار ہے ۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چن لے ۔ وہ بڑی وسعت والا ہے ۔ بڑے علم والا ہے ۔ اس کے فضل وکرم پر کوئی خازن مقرر نہیں ۔ اس کی دادوہش کے لئے کوئی حد وقید نہیں ہے ۔ وہی جانتا ہے کہ بھلائی کس میں ہے ۔ وہی جانتا ہے کہ کس موقع پر کیا فیصلہ بہتر ہے ؟

یہ ایسے معاملات ہیں جن کے بارے میں ایک مسلمان کا نقطہ نظر درست ہونا چاہئے ۔ اور اس کا ذہن کدورت سے صاف ہونا چاہئے ۔ لیکن کیا کیا جائے معاملہ بنی اسرائیل سے آپڑا ہے ۔ ان کے نبی اس بات سے خوب واقف ہیں ۔ نبی وقت جانتا ہے کہ نبی اسرائیل کا مزاج ان بلند حقائق کا متحمل ہی نہیں ہے ۔ حالات ایسے ہیں کہ فہمائش کے لئے وقت نہیں ہے ۔ معرکہ حق و باطل سرپر ہے۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ وقت کی کمی کے باعث ان کے سامنے ایک ایسا معجزہ ظاہر کردیا جائے جس سے ان کے دل نرم ہوجائیں ۔ وہ بےحد متاثر ہوں اور انہیں اس قیادت پر اطمینان ہوجائے اور وہ یقین کرلیں :