مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 2 Al-Baqara — آیت 167

سُورَةُ البَقَرَةِ · مدنی · Fateh Muhammad Jalandhry

167

وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوا۟ لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةًۭ فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا۟ مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ ٱللَّهُ أَعْمَٰلَهُمْ حَسَرَٰتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُم بِخَٰرِجِينَ مِنَ ٱلنَّارِ

(یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہو تاکہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں۔ اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گااور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے

waqāla alladhīna ittabaʿū law anna lanā karratan fanatabarra-a min'hum kamā tabarraū minnā kadhālika yurīhimu l-lahu aʿmālahum ḥasarātin ʿalayhim wamā hum bikhārijīna mina l-nāri

لفظ بہ لفظ

  • وَقَالَ waqāla And said
  • ٱلَّذِينَ alladhīna those who
  • ٱتَّبَعُوا۟ ittabaʿū followed
  • لَوْ law (Only) if
  • أَنَّ anna [that]
  • لَنَا lanā for us
  • كَرَّةًۭ karratan a return
  • فَنَتَبَرَّأَ fanatabarra-a then we will disown
  • مِنْهُمْ min'hum [from] them
  • كَمَا kamā as
  • تَبَرَّءُوا۟ tabarraū they disown
  • مِنَّا ۗ minnā [from] us
  • كَذَٰلِكَ kadhālika Thus
  • يُرِيهِمُ yurīhimu will show them
  • ٱللَّهُ l-lahu Allah
  • أَعْمَـٰلَهُمْ aʿmālahum their deeds
  • حَسَرَٰتٍ ḥasarātin (as) regrets
  • عَلَيْهِمْ ۖ ʿalayhim for them
  • وَمَا wamā And not
  • هُم hum they
  • بِخَـٰرِجِينَ bikhārijīna will come out
  • مِنَ mina from
  • ٱلنَّارِ l-nāri the Fire
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

کاش وہ اس منظر کو دیکھ سکتے کہ پیشوا اپنے مریدوں سے بےتعلقی کا اظہار کررہے ہیں ۔ انہوں نے عذاب خود دیکھ لیا ہے ۔ ان کے درمیان تعلقات اور دوستیاں ختم ہوچکی ہیں ۔ پیشوا ہے کہ مرید دونوں نفسا نفسی کی حالت میں ہیں ۔ وہ قیادت اور ریاست ڈھیر ہوگئی جس کی وجہ سے پیروکار ان کے پیچھے بھاگتے تھے ۔ قائدین کو خود اپنی پڑی ہے ۔ وہ پیروؤں کی عزت پر کیا توجہ کریں ، ان کو کس طرح بچائیں ۔ اب تو الٰہ واحد کی حقیقت اور طاقت ظاہر ہوچکی ہے ۔ اب تو ان کے سامنے صرف ایک ہی قدرت ہے ۔ گمراہ قیادتوں کا جھوٹ ، ان کی کمزوری اور اللہ کے سامنے ان کا عجز اور عذاب الٰہی کے سامنے ان کی سراسیمگی اور بےبسی سب پر ظاہر ہوچکی ہے ۔ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ” اور وہ لوگ جو دنیا میں ان کی پیروی کرتے تھے ، کہیں گے کاش کہ ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزار ظاہر کررہے ہیں ، ہم ان سے بیزار ہوکر دکھادیتے ۔ “ وہاں یہ فریب خوردہ پیروکار اپنی گمراہ قیادت پر سخت غیض وغضب کا اظہار کریں گے ۔ وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش ایک موقع ہمیں اور مل جاتا اور ہم زمین پر دوبارہ لوٹادیئے جاتے تاکہ اپنی کمزور اور ناکارہ دھوکہ باز قیادت سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ۔ کیا وہ ہولناک منظر ہے یہ ، قائد اور پیروکار ایک دوسرے پر تبرّا بھیج رہے ہیں ۔ ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے ہیں ۔ کل کے دوست آج سخت دشمن ہیں ۔ ان کے اس حسرتناک انجام پر یہ نتیجہ بیان کیا جاتا ہے۔ كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ ” یوں اللہ ان لوگوں کے اعمال ، جو یہ دنیا میں کررہے ہیں ، ان کے سامنے اس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے ۔ مگر آگ سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ۔ “

اب بتادیا جاتا ہے کہ زندگی کی پاک چیزوں سے فائدہ اٹھاؤ، ناپاک اور خبیث چیزوں سے دور رہو ، خبردار ! شیطان کی اطاعت نہ کرو ، وہ تو ہر وقت ناپاک چیزوں کی طرف پکارتا ہے ۔ شیطان بعض چیزوں کو اللہ کی طرف سے حلال قرار دیتا ہے اور بعض کو حرام قرار دیتا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے اسے تحلیل وتحریم اور قانون سازی کا اختیار ہرگز نہیں دیا ۔ (مسلمانوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ اپنے عقائد ونظریات کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور ذریعے سے راہ نمائی حاصل نہ کریں۔ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر ، ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ سمجھتی ہیں ۔ ان کے اس احمقانہ فعل پر تنبیہ کی جاتی ہے ۔ یوں ان آیات کا فصل سابق کی آیات کے ساتھ معنوی ربط بھی واضح ہوجاتا ہے ۔