مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 17 Al-Israa — آیت 49

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ · مکی · Fateh Muhammad Jalandhry

49

وَقَالُوٓا۟ أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمًۭا وَرُفَٰتًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًۭا جَدِيدًۭا

اور کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیوں اور چُور چُور ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہو کر اُٹھیں گے

waqālū a-idhā kunnā ʿiẓāman warufātan a-innā lamabʿūthūna khalqan jadīdan

لفظ بہ لفظ

  • وَقَالُوٓا۟ waqālū And they say
  • أَءِذَا a-idhā Is it when
  • كُنَّا kunnā we are
  • عِظَـٰمًۭا ʿiẓāman bones
  • وَرُفَـٰتًا warufātan and crumbled particles
  • أَءِنَّا a-innā will we
  • لَمَبْعُوثُونَ lamabʿūthūna surely (be) resurrected
  • خَلْقًۭا khalqan (as) a creation
  • جَدِيدًۭا jadīdan new
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

بعثت بعد الموت کا مسئلہ رسول اللہ اور مشرکین مکہ کے درمیان بار بار زیر بحث آتا تھا۔ قرآن کریم نے بکثرت ان مباحث کو نقل کیا ہے ، حالانکہ اس کائنات اور موت وحیات کی حقیقت پر غوروفکر کرنے والا ہر آدمی بڑی آسانی کے ساتھ اسے سمجھ سکتا ہے۔ حشر ونشر کی نوعیت کو بسہولت سمجھتا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم نے اس پر بار بار روشنی ڈالی ہے ، لیکن جس سادگی اور سلامت اور جس وضاحت کے ساتھ قرآن نے اس مسئلہ کو سمجھایا ، یہ لوگ اسے نہ سمجھ سکے۔ لہٰذا وہ یہی کہتے رہے کہ مرمٹنے کے بعد وہ کیسے دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔

وقالوء اذا کنا عظاما ورفاتاء انا لمبعوثون خلقا جدیدا (71 : 94) ”

وہ کہتے ہیں کہ جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے ؟ “ وہ یہ باتیں اس لئے کرتے تھ کہ وہ حیات کی اصل حقیقت کے بارے میں سوچتے ہی نہ تھے کہ وہ ایک وقت بالکل نہ تھے اور اللہ انہیں وجود میں لایا۔ اور یہ کہ ابتدائی تخلیق مشکل ہوتی ہے جبکہ دوربارہ تخلیق کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ پھر یہ بھی وہ نہیں سوچتے کہ اللہ کی قدرت لامحدود ہے ، اس کے سامنے مشکل نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اللہ کی تخلیق کا آلہ اور سبب فقط کن فیکون ہے۔ لہٰذا کوئی چیز سہل یا دشوار انسانوں کے نقطہ نظر سے تو ہوسکتی ہے لیکن اللہ کے نقطہ نظر سے نہیں۔ وہاں تو صرف ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان کے اس تعجب کو یوں رد کردیا گیا۔