سورہ 17 Al-Israa — آیت 48
ٱنظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا۟ لَكَ ٱلْأَمْثَالَ فَضَلُّوا۟ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًۭا
دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ہیں۔ سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں اور رستہ نہیں پاسکتے
unẓur kayfa ḍarabū laka l-amthāla faḍallū falā yastaṭīʿūna sabīlan
لفظ بہ لفظ
- ٱنظُرْ unẓur See
- كَيْفَ kayfa how
- ضَرَبُوا۟ ḍarabū they put forth
- لَكَ laka for you
- ٱلْأَمْثَالَ l-amthāla the examples
- فَضَلُّوا۟ faḍallū but they have gone astray
- فَلَا falā so not
- يَسْتَطِيعُونَ yastaṭīʿūna they can
- سَبِيلًۭا sabīlan (find) a way
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
انظر کیف ضربوا لک الامچال فصلوا فلا یستطیعون سبیلا (71 : 74) دیکھو کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھانٹتے ہیں ، یہ بھٹک گئے ہیں ، انہیں راستہ نہیں ملتا “۔ یہ آپ ﷺ کو جادوگر اور جادو زدہ کہتے ہیں ، حالانکہ آپ ﷺ تو رسول ہیں۔ یہ خود گمراہ ہوگئے ، راہ ہدایت نہیں پا رہے ، یہ اس قدر حیران ہوگئے کہ انہیں کوئی راہ نہیں سوجھتی۔ نہ وہ راہ راست پر آتے ہیں اور نہ ہی اپنے غلط موقف پر کوئی صحیح استدلال کرسکتے ہیں۔
یہ تو تھے ان کے اقوال اور ان کی آراء قرآن اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں۔ قرآن کے فلسفہ کائنات کے بارے میں ان کی رائے یہ تھی کہ وہ قیامت اور بعث بعد الموت کے قائل نہ تھے اور اسے مستبد سمجھتے تھے۔