سورہ 11 Hud — آیت 29
وَيَٰقَوْمِ لَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ ۚ وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ ۚ إِنَّهُم مُّلَٰقُوا۟ رَبِّهِمْ وَلَٰكِنِّىٓ أَرَىٰكُمْ قَوْمًۭا تَجْهَلُونَ
اور اے قوم! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں، میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، میں ان کو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو
wayāqawmi lā asalukum ʿalayhi mālan in ajriya illā ʿalā l-lahi wamā anā biṭāridi alladhīna āmanū innahum mulāqū rabbihim walākinnī arākum qawman tajhalūna
لفظ بہ لفظ
- وَيَـٰقَوْمِ wayāqawmi And O my people
- لَآ lā not
- أَسْـَٔلُكُمْ asalukum I ask (of) you
- عَلَيْهِ ʿalayhi for it
- مَالًا ۖ mālan any wealth
- إِنْ in Not
- أَجْرِىَ ajriya (is) my reward
- إِلَّا illā except
- عَلَى ʿalā from
- ٱللَّهِ ۚ l-lahi Allah
- وَمَآ wamā And not
- أَنَا۠ anā I am
- بِطَارِدِ biṭāridi going to drive away
- ٱلَّذِينَ alladhīna those who
- ءَامَنُوٓا۟ ۚ āmanū believed
- إِنَّهُم innahum Indeed, they
- مُّلَـٰقُوا۟ mulāqū (will) be meeting
- رَبِّهِمْ rabbihim their Lord
- وَلَـٰكِنِّىٓ walākinnī but I
- أَرَىٰكُمْ arākum see you
- قَوْمًۭا qawman (are) a people
- تَجْهَلُونَ tajhalūna ignorant
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
اے برادران قوم " جن لوگوں کو تم رذیل کہتے ہو یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں میں نے دعوت دی اور انہوں نے میری دعوت قبول کرلی اور ایمان لے آئے اور میرا مطالبہ لوگوں سے فقط یہ ہے کہ وہ ایمان لے آئیں۔ اس کے سوا میرا ان پر کوئی حق نہیں ہے۔ میں جو دعوت دے رہا ہوں ، اس کے عوض میں ان سے کوئی معاضہ طلب کرنے کا حقدار نہیں ہوں۔ اگر ایسا ہوتا تو میں فقراء کے مقابلے میں امراء کے درپے ہوجاتا۔ میرے نزدیک تمام لوگ برابر ہیں ، فقیر ہوں کہ امیر۔ جو شخص لوگوں کی دولت میں دلچسپی نہیں رکھتا اس کے نزدیک فقراء اور امراء ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔
اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ " میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے " صرف اللہ کے ذمہ ، اس کے سوا کسی اور سے میں کسی قسم کے معاوضے کا طلبگار ہی نہیں۔
وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا " اور میں ان لوگوں کو دھکے دینے والا بھی نہیں ، جو ایمان لائے ہیں " اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید انہوں نے ایسا کوئی مطالبہ کیا تھا یا ایسے اشارات دیے تھے کہ وہ ان عوام الناس کے ساتھ اکٹھے نہیں بیٹھ سکتے۔ اگر ان کو دور کردیا جائے تو وہ ایمان لانے پر غور کرسکتے ہیں کیونکہ وہ مجلس نوح میں ان رذیل لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ نہ وہ یہ برداشت کرسکتے ہیں کہ ہم جیسے بڑے لوگ ان رذیلوں کے طریقے پر چلیں۔ میں ان لوگوں کو دھکے دینے والا نہیں۔ یعنی مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا وہ تو ایمان لے آئے ہیں۔ اب وہ جانیں اور ان کا رب جانے۔
اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ " وہ آپ ہی اپنے رب کے حضور جانے والے ہیں "
وَلٰكِنِّيْٓ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْـهَلُوْنَ " مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو " یعنی تم ان اقدار کو نہیں سمجھ سکتے جن کے ساتھ اللہ کے ترازو میں لوگ تولے جاتے ہیں۔ اور تم اس حقیقت کو بھی نہیں سمجھتے کہ سب لوگوں کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔