سورہ 81 At-Takwir — آیت 13
وَإِذَا ٱلْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ
اور بہشت جب قریب لائی جائے گی
wa-idhā l-janatu uz'lifat
لفظ بہ لفظ
- وَإِذَا wa-idhā And when
- ٱلْجَنَّةُ l-janatu Paradise
- أُزْلِفَتْ uz'lifat is brought near
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
اور اب آخری منظر ، اس دن کے مناظر میں سے آخری منظر یوں ہوگا۔
واذا .................... ازلفت (13:81) ” اور جب جہنم دہکائی جائے گی ، اور جب جنت قریب لائی جائے گی “۔ یعنی جب جہنم میں آگ جلے گی اور اسے خوب دھکایا جائے گا اور اس کے شعلے زیادہ ہوں گے اور اس کا جوش و خروش اور حرارت زیادہ ہوجائے گی۔ یہ جہنم کہاں ہے اور کس طرح دھکائی جائے گی ؟ کیسا ایندھن استعمال ہوگا ، ہمارے پاس اس سلسلے میں صرف ایک آیت ہے۔
وقودھا ................ واحجارة (اس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے “۔ یہ حالت تو اس وقت کی ہوگی جب اہل جہنم کو اس کے اندر پھینک دیا جائے گا۔ اور جب جنت قریب کردی جائے گی ، اور جن لوگوں کو جنت میں داخل ہونا ہے ، یہ ان کے سامنے آجائے گی ، اور ان پر واضح ہوجائے گا کہ اب تو وہ بسہولت اس میں داخل ہوں گے تو ایسی صورت میں اسے ” مزلفہ “ کہا ججاتا ہے یعنی قریبہ اور اس حال میں کہ وہ تیار اور آراستہ ہے اور اب چند قدم لینے کی دیر ہے ، چند بےترتیب قدم بھی پہنچا سکتے ہیں۔
جب اس کائنات میں ، جب عالم اشیاء میں ، خواہ زندہ ہوں یا جمادات ہوں یا نباتات ، میں اس قدر انقلاب آجائے گا ، تو اب کسی کو کیا شک رہے گا کہ یہ مرحلہ آنے والا ہے ، ہر شخص کو یقینا اپنے اعمال یاد آجائیں گے ، وہ اعمال جو کسی نے اس دن کے لئے تیار کیے ، جو وہ لے کر آیا یا پیش کرنے کے لئے ، جو تیار کیے حساب اور جواب حساب کے لئے۔