سورہ 73 Al-Muzzammil — آیت 16
فَعَصَىٰ فِرْعَوْنُ ٱلرَّسُولَ فَأَخَذْنَٰهُ أَخْذًۭا وَبِيلًۭا
سو فرعون نے (ہمارے) پیغمبر کا کہا نہ مانا تو ہم نے اس کو بڑے وبال میں پکڑ لیا
faʿaṣā fir'ʿawnu l-rasūla fa-akhadhnāhu akhdhan wabīlan
لفظ بہ لفظ
- فَعَصَىٰ faʿaṣā But disobeyed
- فِرْعَوْنُ fir'ʿawnu Firaun
- ٱلرَّسُولَ l-rasūla the Messenger
- فَأَخَذْنَـٰهُ fa-akhadhnāhu so We seized him
- أَخْذًۭا akhdhan (with) a seizure
- وَبِيلًۭا wabīlan ruinous
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
انا رارسلنا ............................ رسولا (15) فعصی ................ وبیلا (73:16) ” ہم نے تمہارے پاس اسی طرح ایک رسول بھیجا ہے ، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا ، فرعون نے اس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اسے بڑی سختی سے پکڑ لیا “۔ یوں اختصار کے ساتھ ان کے دلوں کے اندر زلزلہ پیدا کیا جاتا ہے اور ان کو اپنے سخت موقف سے اکھارنے کی سعی کی جاتی ہے جبکہ اس سے قبل پہاڑ کے زلزلہ اور ریزہ ریزہ کردینے کا منظر گزر گیا ہے۔ وہ ہے آخرت کا عذاب اور پکڑ اور یہ ہے دنیاوی پکڑ۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں جو پکڑ بھی ہو تم اس سے کیسے بچ سکتے ہو ؟ خصوصاً قیامت کی پکڑ تو اس قدر شدید ہوگی :