سورہ 70 Al-Ma'aarij — آیت 36
فَمَالِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ
تو ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمہاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں
famāli alladhīna kafarū qibalaka muh'ṭiʿīna
لفظ بہ لفظ
- فَمَالِ famāli So what is with
- ٱلَّذِينَ alladhīna those who
- كَفَرُوا۟ kafarū disbelieve
- قِبَلَكَ qibalaka before you
- مُهْطِعِينَ muh'ṭiʿīna (they) hasten
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
اب آخر میں دعوت اسلامی کا ایک منظر۔ یہ مکی منظر ہے ۔ ایک جگہ رسول کریم ﷺ کھڑے دعوت دے رہے ہیں۔ قرآن پڑھ رہے ہیں اور مشرکین ہر طرف سے امنڈتے چلے آرہے ہیں :
فمال ........................ عزین
مھطع اس شخص کو کہتے ہیں جو گردن لمبی کرتے ہوئے تیز تیز چلتا ہے۔ گویا رسی گلے میں ڈال کر کھینچا جارہا ہو ، اور عزین جمع عزہ کی اور اس کا وزن اور معنی دونوں لفظ۔
فئة کی طرح ہے ، یعنی گروہ۔ اس میں ان کی اس مشکوک حرکت پر ایک مزاح بھی ہے اور اس ہیئت اور حرکت کی ایک تصویر بھی۔ ان پر تعجب کیا جاتا ہے اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا ہوگیا ہے تمہیں ؟ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف اس لئے نہیں بھاگ رہے کہ آپ کی باتیں سنیں یا آپ سے ہدایات لیں۔ بلکہ وہ نہایت حواس بافتہ انداز میں معلوم کرنے کے لئے دوڑتے ہیں کہ آپ کیا کہتے ہیں اور پھر واپس بھاگتے ہیں۔ اور اپنے اپنے ہاں جاکر حلقوں میں بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ ................ آپ کے خلاف کیا سازشیں کریں ؟