سورہ 54 Al-Qamar — آیت 27
إِنَّا مُرْسِلُوا۟ ٱلنَّاقَةِ فِتْنَةًۭ لَّهُمْ فَٱرْتَقِبْهُمْ وَٱصْطَبِرْ
(اے صالح) ہم ان کی آزمائش کے لئے اونٹنی بھیجنے والے ہیں تو تم ان کو دیکھتے رہو اور صبر کرو
innā mur'silū l-nāqati fit'natan lahum fa-ir'taqib'hum wa-iṣ'ṭabir
لفظ بہ لفظ
- إِنَّا innā Indeed, We
- مُرْسِلُوا۟ mur'silū (are) sending
- ٱلنَّاقَةِ l-nāqati the she-camel
- فِتْنَةًۭ fit'natan (as) a trial
- لَّهُمْ lahum for them
- فَٱرْتَقِبْهُمْ fa-ir'taqib'hum so watch them
- وَٱصْطَبِرْ wa-iṣ'ṭabir and be patient
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
انا مرسلوا ............ محتضر (45: 82) ” ہم اپنی اونٹنی کو ان کے لئے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں۔ اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کر ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ان کو جتا دے کہ پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا۔ “ اب پڑھنے والے انتظار میں ہیں کہ ہوتا کیا ہے۔ ناقہ بھیج دی جاتی ہے۔ یہ ان کے لئے آزمائش ہے اور ان کے لئے امتحان ہے کہ کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام اور رسول وقت بھی انتظار میں ہے کہ کیا ہوتا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق وہ صبر کرتا ہے۔ اس وقت تک کہ امتحان کا نتیجہ سامنے آجائے۔ نبی کو یہ ہدایت دے دی جاتی ہے کہ پانی ان کے اور ناقہ کے درمیان تقسیم ہے۔ یہ ناقہ لازماً مخصوص ناقہ تھی۔ تقسیم یوں تھی کہ ایک دن کا پورا پانی ناقہ کے لئے تھا اور دوسرے دن کا ان کے لئے۔ ناقہ اپنے دن آئے گی اور یہ لوگ اپنے دن آئیں گے۔ وہ اپنے دن پئے گی اور یہ لوگ اپنے دن پانی لیں گے۔
اب سیاق کلام پھر حکایتی اور قصے کا انداز لے لیتا ہے اور اس کے بعد یہ واقعات یوں آتے ہیں۔