سورہ 50 Qaaf — آیت 15
15
أَفَعَيِينَا بِٱلْخَلْقِ ٱلْأَوَّلِ ۚ بَلْ هُمْ فِى لَبْسٍۢ مِّنْ خَلْقٍۢ جَدِيدٍۢ
کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ہیں؟ (نہیں) بلکہ یہ ازسرنو پیدا کرنے میں شک میں (پڑے ہوئے) ہیں
afaʿayīnā bil-khalqi l-awali bal hum fī labsin min khalqin jadīdin
لفظ بہ لفظ
- أَفَعَيِينَا afaʿayīnā Were We then tired
- بِٱلْخَلْقِ bil-khalqi with the creation
- ٱلْأَوَّلِ ۚ l-awali the first
- بَلْ bal Nay
- هُمْ hum they
- فِى fī (are) in
- لَبْسٍۢ labsin doubt
- مِّنْ min about
- خَلْقٍۢ khalqin a creation
- جَدِيدٍۢ jadīdin new
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
افعیینا بالخلق الاول (50 : 15) ” کیا پہلی بار کی تخلیق سے ہم عاجز تھے “۔ یعنی ان کے سامنے کیا یہ شہادت موجود نہ تھی ، تخلیق چونکہ موجود تھی اس لیے جواب نہ دیا۔
بل ھم فی لبس من خلق جدید (50 : 15) ” بلکہ ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے تھے “ ۔ یہ دیکھتے نہ تھے کہ ان کے سامنے یہ عمل موجود ہے۔ شہادت موجود ہے لہٰذا ان کا علاج ہی یہی تھا جو ہوا۔