مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 48 Al-Fath — آیت 22

سُورَةُ الفَتۡحِ · مدنی · Fateh Muhammad Jalandhry

22

وَلَوْ قَٰتَلَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوَلَّوُا۟ ٱلْأَدْبَٰرَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّۭا وَلَا نَصِيرًۭا

اور اگر تم سے کافر لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر کسی کو دوست نہ پاتے اور نہ مددگار

walaw qātalakumu alladhīna kafarū lawallawū l-adbāra thumma lā yajidūna waliyyan walā naṣīran

لفظ بہ لفظ

  • وَلَوْ walaw And if
  • قَـٰتَلَكُمُ qātalakumu fight you
  • ٱلَّذِينَ alladhīna those who
  • كَفَرُوا۟ kafarū disbelieve
  • لَوَلَّوُا۟ lawallawū surely they would turn
  • ٱلْأَدْبَـٰرَ l-adbāra the backs
  • ثُمَّ thumma Then
  • لَا lā not
  • يَجِدُونَ yajidūna they would find
  • وَلِيًّۭا waliyyan any protector
  • وَلَا walā and not
  • نَصِيرًۭا naṣīran any helper
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

یہاں تک اللہ نے ان کو موجودہ غنیمت کے لئے بھی خوشخبری دے دی اور اس کے بعد کی آنے والی غنیمتوں کی خوشخبری بھی دے دی گئی اور مسلمان ان کا انتظار کرنے لگے ، ان خوشخبریوں کے ساتھ ساتھ ایک بڑی خوشخبری یہ بھی دے دی گئی کہ اب انشاء اللہ مسلمان فتح مند اور کامران رہیں گے۔ اس سال جو صلح طے کرائی گئی ، وہ اس لئے نہیں کرائی گئی کہ مسلمان کمزور تھے یا یہ کہ مشرکین بہت قوی تھے لیکن بعض حکمتوں کی وجہ سے یہ صلح طے کرائی گئی اگر اس بار بھی اہل مکہ سے جھڑپ ہوجاتی تو بھی یہ ہزیمت اٹھاتے ، کیونکہ اللہ کی حکمت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ جب مسلم اور کافر کا کسی فیصلہ کن مقام پر مقابلہ ہوجائے تو مسلم فتح یاب ہوں۔

ولو قتلکم الذین ۔۔۔۔۔ ولا نصیرا (22) سنۃ اللہ التی ۔۔۔۔ لسنۃ اللہ تبدیلا (23) (48 : 22 تا 23) “ یہ کافر لوگ اگر اس وقت تم سے لڑ گئے ہوتے تو یقیناً پیٹھ پھیر جاتے اور کوئی حامی و مددگار نہ پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔ جو پہلے سے چلی آرہی ہے اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ”۔

یوں مومنین کی فتح اور کفار کی شکست کو اللہ اس سنت کے مربوط فرماتا ہے جو اس کائنات میں جاری ہے جس کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوا کرتا ۔ کس قدر عظیم سکینت ہے یہ ؟ کس قدر عظیم بھروسہ ہے یہ ؟ کس قدر ثابت قدمی ان مومنین کو دی جا رہی تھی کہ وہ اللہ کے کلام میں اس کے نبی کی زبانی اپنی فتح اور کفار کی شکست کی خوشخبریاں سن رہے ہیں۔

اللہ کی سنت تو کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ ہاں اس کی سنت کے مطابق فتح میں دیر ضرور ہو سکتی ہے۔ کیونکہ فتح کے اسباب کا تعلق مومنین کی تیار اور تربیت سے ہوتا ہے اور ان کی تیاری اور اچھی طرح تربیت کا علم اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ یا ان حالات کی آمد پر ہوتا ہے جن میں مومنین کے لئے نصرت اور فتح کے اسباب و حالات فراہم ہوجائیں اور کافروں کی ہزیمت یقینی ہوجائے تا کہ فتح کی اہمیت اور اثر وسیع ہوجائے ، یا دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جن کو اللہ جانتا ہے۔ بہرحال سنت الہٰیہ کے مطابق فتح حق کی ہوتی ہے اور اللہ کی سنت کبھی بدلتی نہیں۔