مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 42 Ash-Shura — آیت 28

سُورَةُ الشُّورَىٰ · مکی · Fateh Muhammad Jalandhry

28

وَهُوَ ٱلَّذِى يُنَزِّلُ ٱلْغَيْثَ مِنۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوا۟ وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُۥ ۚ وَهُوَ ٱلْوَلِىُّ ٱلْحَمِيدُ

اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت (یعنی بارش) کی برکت کو پھیلا دیتا ہے۔ اور وہ کارساز اور سزاوار تعریف ہے

wahuwa alladhī yunazzilu l-ghaytha min baʿdi mā qanaṭū wayanshuru raḥmatahu wahuwa l-waliyu l-ḥamīdu

لفظ بہ لفظ

  • وَهُوَ wahuwa And He
  • ٱلَّذِى alladhī (is) the One Who
  • يُنَزِّلُ yunazzilu sends down
  • ٱلْغَيْثَ l-ghaytha the rain
  • مِنۢ min after
  • بَعْدِ baʿdi after
  • مَا mā [what]
  • قَنَطُوا۟ qanaṭū they have despaired
  • وَيَنشُرُ wayanshuru and spreads
  • رَحْمَتَهُۥ ۚ raḥmatahu His mercy
  • وَهُوَ wahuwa And He
  • ٱلْوَلِىُّ l-waliyu (is) the Protector
  • ٱلْحَمِيدُ l-ḥamīdu the Praiseworthy
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

آیت نمبر 28

یہ ایک دوسرا انداز ہے جو ان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اس دنیا میں بندوں پر اللہ کے فضل وکرم کے کئی رنگ ہیں۔ بعض اوقات سخت خشک سالی ہوجاتی ہے ، بارشیں بند ہوجاتی ہیں اور وہ زندگی کی پہلی ضرورت کی فراہمی سے بھی عاجز آجاتے ہیں ، زندگی کی پہلی ضرورت پانی ہے۔ حال یہاں تک آپہنچتی ہے کہ یہ مایوس ہونے لگتے ہیں ، اس کے بعد اللہ بارشیں برسا دیتا ہے۔ ان کی حاجت پوری ہوتی ہے۔ اللہ کی رحمت پھیل جاتی ہے ، زمین زندہ اور سر سبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ بیج پھوٹنے لگتے ہیں ، نباتات اٹھنے لگتے ہیں۔ فضا لطیف ہوجاتی ہے۔ اور ہر طرف زندگی حرکت کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چہرے کھل جاتے ہیں ، دل کھل جاتے ہیں ، امیدیں بڑھ جاتی ہیں اور امنگیں پوری ہوتی ہیں۔ یاد رہے کہ مایوسی اور امیدو رحمت کے درمیان پس چند لمحے ہوتے ہیں۔ چند لمحوں میں اللہ کی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ آسمانوں کے دروازے پانی کھول دیتے ہیں۔

وھو الولی الحمید (42 : 28) ” اور وہی قابل تعریف ولی ہے “۔ وہ مددگار ، کفیل ہے اور اپنی ذات وصفات میں محمود ہے۔

یہاں قرآن مجید نے بارش کے لئے غیث کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس میں امداد اور داد رسی کا مفہوم شامل ہے۔ اس وقت امداد دینا جب لوگوں پر تنگی اور مصیبت ہو ، غیث ہے۔ اسی طرح اس مدد کے نتائج کو رحمت کا نام دیا۔

وینشر رحمتہ (42 : 28) ” اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے ، اس سے ترو تازگی ، سرسبزی ، امید اور خوشی کے معانی نکلتے ہیں۔ جو نباتا کے پھوٹنے سے ، اور پھلوں کے نکلنے سے ظاہری طور پر رحمت کے پھیلاؤ کی شکل میں نظر آتے ہیں جب بھی طویل خشک سالی کے بعد باران رحمت کا نزول ہوتا ہے تو لوگوں کی خوشی ، جسم اور اعصاب کی ترو تازگی اور قلب و شعور کا سرور قابل دید ہوتا ہے۔ ایسی خشک سالی کے بعد جب زمین نباتات سے سبز سبز ہوجاتی ہے تو انسانی دلوں سے تمام پریشانیاں دور ہوجاتی ہے۔ زمین مرونی کے بعد زندہ ہوجاتی ہے۔