مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 37 As-Saaffaat — آیت 101

سُورَةُ الصَّافَّاتِ · مکی · Fateh Muhammad Jalandhry

101

فَبَشَّرْنَٰهُ بِغُلَٰمٍ حَلِيمٍۢ

تو ہم نے ان کو ایک نرم دل لڑکے کی خوشخبری دی

fabasharnāhu bighulāmin ḥalīmin

لفظ بہ لفظ

  • فَبَشَّرْنَـٰهُ fabasharnāhu So We gave him the glad tidings
  • بِغُلَـٰمٍ bighulāmin of a boy
  • حَلِيمٍۢ ḥalīmin forbearing
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

فبشرنہ بغلم حلیم (101) “۔ یہ حضرت اسماعیل ہیں جس طرح اس سورت اور سیرت کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور اللہ نے ان کے علم اور صبر اور بردباری کی تعریف کی۔ جبکہ وہ ابھی لڑکے تھے۔ ہمیں چاہئے کہ اس مقام پر حضرت ابراہیم کی تنہائی ، وطن سے جدائی اور اہل قرابت سے دوری کے بارے میں سوچیں اور پھر اس بچے کی خوشخبری پر خوشی کا تصور کریں جس کی تعریف رب تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ یہ بچہ غلام حلیم ہوگا۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ، ان کا وہ طرز عمل سامنے آتا ہے جو پوری انسانی تاریخ میں ایک منفرد طرز عمل ہے اور ان کی زندگی میں تو وہ بہرحال ایک یادگار طرز عمل ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو قیامت تک امت مسلمہ کے لیے ایک اعلیٰ وارفع مثال ہے۔ یہ عمل حضرت ابراہیم نے خود پیش فرمایا۔