سورہ 21 Al-Anbiyaa — آیت 84
فَٱسْتَجَبْنَا لَهُۥ فَكَشَفْنَا مَا بِهِۦ مِن ضُرٍّۢ ۖ وَءَاتَيْنَٰهُ أَهْلَهُۥ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةًۭ مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَٰبِدِينَ
تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے (یہ) نصیحت ہے
fa-is'tajabnā lahu fakashafnā mā bihi min ḍurrin waātaynāhu ahlahu wamith'lahum maʿahum raḥmatan min ʿindinā wadhik'rā lil'ʿābidīna
لفظ بہ لفظ
- فَٱسْتَجَبْنَا fa-is'tajabnā So We responded
- لَهُۥ lahu to him
- فَكَشَفْنَا fakashafnā and We removed
- مَا mā what
- بِهِۦ bihi (was) on him
- مِن min of
- ضُرٍّۢ ۖ ḍurrin (the) adversity
- وَءَاتَيْنَـٰهُ waātaynāhu And We gave him
- أَهْلَهُۥ ahlahu his family
- وَمِثْلَهُم wamith'lahum and (the) like thereof
- مَّعَهُمْ maʿahum with them
- رَحْمَةًۭ raḥmatan (as) Mercy
- مِّنْ min from Ourselves
- عِندِنَا ʿindinā from Ourselves
- وَذِكْرَىٰ wadhik'rā and a reminder
- لِلْعَـٰبِدِينَ lil'ʿābidīna for the worshippers
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
فاستجبنا لہ۔۔۔۔۔۔ مثلھم معھم (12 : 48) ” ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو تکلیف اسے تھی اس کو دور کردیا اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیئے بلکہ اس کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیئے “۔
ان کے جسم کو جو مرض لا حق تھا ‘ وہ دور ہوگیا اور آپ فوراً تندرست ہوگئے۔ ان کے اہل و عیال جن سے وہ محروم ہوگئے تھے اللہ نے ان کو دے دیئے اور ان جیسے اور دے دیئے۔ کہا گیا ہے کہ بیٹوں کے بدلے بیٹے دے دیئے یا بیٹے اور پوتے دے دیئے۔
رحمتہ من عندنا (12 : 48) ” اللہ کی ہر رحمت اللہ کا احسان ہے۔ صرف احسان ‘ ورنہ ہم تو مستحق نہیں ہیں۔
وذکری للعبدین (12 : 48) ” اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے “۔ آزمائش کے حوالے سے اس کا مطلب بہت اہم ہے ‘ عبادت گزاروں پا آزمائش آتی رہتی ہے۔ مثلاً عبادت کی مشکلات ‘ نظریاتی مشکلات اور ایمان کے تقاضے۔ یہ نہایت ہی سنجیدہ معاملہ ہے ‘ مذاق نہیں ہے۔ اسلامی نظریہ حیات ایک عظیم امانت ہے اور یہ امانت صرف ان لوگوں کو دی جاتی ہے جو اس کا بوجھ اٹھا سکیں اور جو اس کے تقاضے اور فرائض پورے کرسکیں۔ محض زبان سے کہتا ہی نہیں ہے یا محض دعویٰ ہی نہیں ہے لہٰذا صبر ضروری ہے تاکہ عبادت گزار آزمائش میں پورے اتریں۔