سورہ 21 Al-Anbiyaa — آیت 67
أُفٍّۢ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
تف ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو ان پر بھی کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
uffin lakum walimā taʿbudūna min dūni l-lahi afalā taʿqilūna
لفظ بہ لفظ
- أُفٍّۢ uffin Uff
- لَّكُمْ lakum to you
- وَلِمَا walimā and to what
- تَعْبُدُونَ taʿbudūna you worship
- مِن min besides
- دُونِ dūni besides
- ٱللَّهِ ۖ l-lahi Allah
- أَفَلَا afalā Then will not
- تَعْقِلُونَ taʿqilūna you use reason
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
قال افتعبدون۔۔۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون (66 : 76) ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات سے ان کی دل تنگی کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ قدرے غصے میں نظر آتے ہیں اور ان کو سخت تعجب ہے کہ یہ لوگ اس قدر پوچ اور غیر معقول فکر و عمل میں پڑے ہوئے ہیں۔
اب ان لوگوں کا رد عمل بھی سامنے آتا ہے۔ ان کی ہٹ دھرمی اب انہیں سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کررہی ہے۔ ان کا حال اس شخص جیسا ہوگیا جس کے پاس دلیل کچھ نہ ہو ‘ اور دلیل کی کمزوری اور کمی وہ تشدد کے ذریعہ پوری کررہا ہے۔ چناچہ یہ لوگ بھی اب تشدد پر اتر آئے اور یہ فیصلہ کیا۔