مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 21 Al-Anbiyaa — آیت 44

سُورَةُ الأَنبِيَاءِ · مکی · Fateh Muhammad Jalandhry

44

بَلْ مَتَّعْنَا هَٰٓؤُلَآءِ وَءَابَآءَهُمْ حَتَّىٰ طَالَ عَلَيْهِمُ ٱلْعُمُرُ ۗ أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِى ٱلْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَآ ۚ أَفَهُمُ ٱلْغَٰلِبُونَ

بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں؟

bal mattaʿnā hāulāi waābāahum ḥattā ṭāla ʿalayhimu l-ʿumuru afalā yarawna annā natī l-arḍa nanquṣuhā min aṭrāfihā afahumu l-ghālibūna

لفظ بہ لفظ

  • بَلْ bal Nay
  • مَتَّعْنَا mattaʿnā We gave provision
  • هَـٰٓؤُلَآءِ hāulāi (to) these
  • وَءَابَآءَهُمْ waābāahum and their fathers
  • حَتَّىٰ ḥattā until
  • طَالَ ṭāla grew long
  • عَلَيْهِمُ ʿalayhimu for them
  • ٱلْعُمُرُ ۗ l-ʿumuru the life
  • أَفَلَا afalā Then do not
  • يَرَوْنَ yarawna they see
  • أَنَّا annā that We
  • نَأْتِى natī We come
  • ٱلْأَرْضَ l-arḍa (to) the land
  • نَنقُصُهَا nanquṣuhā We reduce it
  • مِنْ min from
  • أَطْرَافِهَآ ۚ aṭrāfihā its borders
  • أَفَهُمُ afahumu So is (it) they
  • ٱلْغَـٰلِبُونَ l-ghālibūna (who will be) overcoming
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

بل متعنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افھم الغلبون (44) ” ۔ درحقیقت ہم نے ان کو اور ان کے آبائو اجداد کو موروثی طور پر خوشحال بنایا تھا ‘ اسدولتمندی نے ان کی فطرت کو بگاڑ دیا تھا۔ ان کا دماغ خراب ہوگیا تھا۔ اور انکے احساسات اور میلانات بدل گئے تھے۔ خدا کے ساتھ ان کا تعلق کمزور پڑگیا تھا اور اس کائنات میں ذات باری پر دلالت کرنے والے جس قدر دلائل تھے ان پر یہ غور نہ کرتے تھے۔ یہ تھی ان کی آزمائش مگر یہ آزمائش خوشحالی کے ساتھ کی گئی اور خوشحالی میں اگر اللہ کسی کا امتحان لے تو وہ سخت ہوتا ہے حالانکہ دولتمندی میں یاد الہٰی اور اللہ کے ساتھ تعلق کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

چناچہ قرآن مجید ان لوگوں کے احساس کو ایک دوسرا منظر پیش کرکے جگا نا چاہتا ہے۔ یہ منظر بھی ہر وقت اس کرئہ ارض پر حقیقی واقعات کی شکل میں دہریایا جاتا ہے کہ ایک بڑی مملکت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر سکڑ جاتی ہے ایک عظیم مملکت سے چھوٹی چھوٹی ریاستیں بن جاتی ہیں۔ ایک بڑی قوت ہونے اور دنیا پر غالب ہونے کے بعد یہ مغلوب ریاستیں بن جاتی ہے۔ اور ایک نہایت ہی بڑی ریاست چھوٹی ریاست بن جاتی ہے۔ بڑی تعدا کم تعداد ہوجاتی ہے اور مالدار مملکت کے بجائے ایک غریب مملکت بن جاتی ہے۔

انداز کلام یوں ہے کہ وست قدرت ان بڑی بڑی مملکتوں کو سیکڑ دیتا ہے۔ جب تخیل اپنا کام کرتا ہے تو نہایت خوں انگیز منظر سامنے آتا ہے۔ اقوام کے مددجزر کی وھیمی حرکت نہایت ہی خوفناک نتائج پیدا کرتی ہے۔

افھم الغلبون (12 : 44) ” کیا یہی غالب ہوں گے “۔ کیا ان کے ساتھ وہی کچھ نہ ہوگا جو دوسری اقوام کے ساتھ رات اور دن ہو رہا ہے۔ اقوام کے مدد جزر کے اس خوفناک منظر کے بعد حضور اکرم ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ ان کو ایک آخری ڈر اوا اور وارننگ دے دیں۔