سورہ 17 Al-Israa — آیت 56
قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِۦ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ ٱلضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا
کہو کہ (مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بلا کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے
quli id'ʿū alladhīna zaʿamtum min dūnihi falā yamlikūna kashfa l-ḍuri ʿankum walā taḥwīlan
لفظ بہ لفظ
- قُلِ quli Say
- ٱدْعُوا۟ id'ʿū Call
- ٱلَّذِينَ alladhīna those whom
- زَعَمْتُم zaʿamtum you claimed
- مِّن min besides Him
- دُونِهِۦ dūnihi besides Him
- فَلَا falā [then] not
- يَمْلِكُونَ yamlikūna they have power
- كَشْفَ kashfa (to) remove
- ٱلضُّرِّ l-ḍuri the misfortunes
- عَنكُمْ ʿankum from you
- وَلَا walā and not
- تَحْوِيلًا taḥwīlan (to) transfer (it)
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں ہے جو مصیبت کو ٹال سکے یا اس کا منہ موڑ سکے۔ یہ کام صرف اللہ وحدہ کرسکتا ہے۔ صرف اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کو قسمتوں کا مالک ہے۔
اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں مثلاً فرشتے ، جن اور انس وہ سب کے سب اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کی مخلوق ہیں۔ وہ خود اللہ تک رسائی کے طریقے تلاش کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ اور وہ خود اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ فی الحقیت ذات باری کو جانتے ہیں۔