مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 17 Al-Israa — آیت 51

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ · مکی · Fateh Muhammad Jalandhry

51

أَوْ خَلْقًۭا مِّمَّا يَكْبُرُ فِى صُدُورِكُمْ ۚ فَسَيَقُولُونَ مَن يُعِيدُنَا ۖ قُلِ ٱلَّذِى فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ ۚ فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هُوَ ۖ قُلْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَرِيبًۭا

یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو (جھٹ کہیں گے) کہ (بھلا) ہمیں دوبارہ کون جِلائے گا؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سرہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا؟ کہہ دو کہ امید ہے جلد ہوگا

aw khalqan mimmā yakburu fī ṣudūrikum fasayaqūlūna man yuʿīdunā quli alladhī faṭarakum awwala marratin fasayun'ghiḍūna ilayka ruūsahum wayaqūlūna matā huwa qul ʿasā an yakūna qarīban

لفظ بہ لفظ

  • أَوْ aw Or
  • خَلْقًۭا khalqan a creation
  • مِّمَّا mimmā of what
  • يَكْبُرُ yakburu (is) great
  • فِى fī in
  • صُدُورِكُمْ ۚ ṣudūrikum your breasts
  • فَسَيَقُولُونَ fasayaqūlūna Then they will say
  • مَن man Who
  • يُعِيدُنَا ۖ yuʿīdunā will restore us
  • قُلِ quli Say
  • ٱلَّذِى alladhī He Who
  • فَطَرَكُمْ faṭarakum created you
  • أَوَّلَ awwala (the) first
  • مَرَّةٍۢ ۚ marratin time
  • فَسَيُنْغِضُونَ fasayun'ghiḍūna Then they will shake
  • إِلَيْكَ ilayka at you
  • رُءُوسَهُمْ ruūsahum their heads
  • وَيَقُولُونَ wayaqūlūna and they say
  • مَتَىٰ matā When (will)
  • هُوَ ۖ huwa it (be)
  • قُلْ qul Say
  • عَسَىٰٓ ʿasā Perhaps
  • أَن an that
  • يَكُونَ yakūna (it) will be
  • قَرِيبًۭا qarīban soon
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

فسیقولون من یعیدنا (71 : 15) ” وہ ضرور پوچھیں گے کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا لائے گا ؟ “ یعنی جب ہم مٹی ہوگئے ، بوسیدہ ہدیاں ہوگئیں ، تو کون ہے وہ جو ہمیں دوبارہ حیات دے گا۔ یا جب ہم پتھر اور لوہا بن گئے تو پھر کون حیات دے گا ؟

قل الذین فطرکم اول مرۃ (81 : 15) ” کہہ دو ، وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا “۔ ان کے سوال کا یہ نہایت ہی سادی اور صاف اور دل لگتا جواب ہے۔ کیونکہ جس ذات سے پہلی مرتبہ ان کو زندگی دی وہ دوبارہ بھی دے سکتا ہے لیکن وہ اس سادہ جواب سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور نہ اطمینان ان کو ہوتا ہے۔

فسیتغضون الیک رء وسھم (71 : 15) ” وہ سر ہلا کر پوچھیں گے “۔ یعنی سر کو اوپر نیچے کر کے سوالیہ انداز اختیار کریں گے ، یہ حرکت وہ اس لئے کریں گے کہ وہ اس بات کو بعید از امکان سمجھتے ہیں یا غرور کے طور پر سر ہلائیں گے۔

و یقولون متی ھو (71 : 15) ” اچھا تو یہ ہوگا کب ؟ “ یہ بھی وہ نہایت ہی لاپرواہی سے وقوع قیامت کو بعید از امکان سمجھتے ہوئے کہیں گے۔

قل عسی ان یکون قریبا (71 : 15) ” آپ جواب دیں ، کیا عجب کہ وہ وقت قریب ہی آلگا ہو “۔ وقوع قیامت کے وقت کا علم تو رسول اللہ ﷺ کو بھی نہیں دیا گیا لیکن شاید یہ وقت ان لوگوں کے گمان اور ظن وتخمین سے قریب تر ہو۔ مناسب تو یہی ہے کہ وہ اس کے وقع سے ڈریں کیونکہ یہ اس حال میں واقع ہوگا کہ لوگ غفلت میں ہوں گے۔ تکذیب کر رہے ہوں گے ، مذاق کر رہے ہوں گے اور قیامت برپا ہوجائے گی۔

اور قرآن اپنے مخصوص انداز کے مطابق اچانک قیامت کے مناظر کا بیان شروع کردیتا ہے۔