سورہ 17 Al-Israa — آیت 38
كُلُّ ذَٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهُۥ عِندَ رَبِّكَ مَكْرُوهًۭا
ان سب (عادتوں) کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے
kullu dhālika kāna sayyi-uhu ʿinda rabbika makrūhan
لفظ بہ لفظ
- كُلُّ kullu All
- ذَٰلِكَ dhālika that
- كَانَ kāna is
- سَيِّئُهُۥ sayyi-uhu [its] evil
- عِندَ ʿinda near
- رَبِّكَ rabbika your Lord
- مَكْرُوهًۭا makrūhan hateful
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
یہاں تما احکام اور منبیات کا سبب بتا دیا گیا کہ ان امور کے ممانعت ان کے برے پہلو کی وجہ سے ہے۔ ان میں کوئی اچھا پہلو بھی ہوسکتا ہے لیکن ان کی ممانعت اس لئے کی گئی ہے کہ ان میں برائی کا پہلو غالب ہے۔
یہ تما احکام اور اخلاقی تعلیمات کو اب عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ حیات کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے ہیں۔ لہٰذا شرک سے بچو اور قرآن کی تعلیمات حکمت کی یہ خاص خاص باتیں ہیں ، یہ حکمت قرآن کا ایک حصہ ہیں۔