مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 16 An-Nahl — آیت 101

سُورَةُ النَّحۡلِ · مکی · Fateh Muhammad Jalandhry

101

وَإِذَا بَدَّلْنَآ ءَايَةًۭ مَّكَانَ ءَايَةٍۢ ۙ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مُفْتَرٍۭ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں

wa-idhā baddalnā āyatan makāna āyatin wal-lahu aʿlamu bimā yunazzilu qālū innamā anta muf'tarin bal aktharuhum lā yaʿlamūna

لفظ بہ لفظ

  • وَإِذَا wa-idhā And when
  • بَدَّلْنَآ baddalnā We substitute
  • ءَايَةًۭ āyatan a Verse
  • مَّكَانَ makāna (in) place
  • ءَايَةٍۢ ۙ āyatin (of) a Verse
  • وَٱللَّهُ wal-lahu and Allah
  • أَعْلَمُ aʿlamu (is) most knowing
  • بِمَا bimā of what
  • يُنَزِّلُ yunazzilu He sends down
  • قَالُوٓا۟ qālū they say
  • إِنَّمَآ innamā Only
  • أَنتَ anta you
  • مُفْتَرٍۭ ۚ muf'tarin (are) an inventor
  • بَلْ bal Nay
  • أَكْثَرُهُمْ aktharuhum most of them
  • لَا lā (do) not
  • يَعْلَمُونَ yaʿlamūna know
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

مشرکین کو معلوم نہیں ہے کہ اس کتاب کا فنکشن کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ یہ ایک عالمی سوسائٹی وجود میں لائے یعنی امت مسلمہ اور اس بات سے وہ بیخبر ہیں۔ یہ امت ایسی ہو جو پوری دنیا کی قیادت کرے اور یہ کہ یہ آخری امت ہے۔ آئندہ دنیا میں سب کچھ اس نے کرنا ہے ، آسمانوں سے اب کوئی نئی رسالت نہیں آتنی ہے۔ پھر یہ کہ اللہ جس نے انسان کو پیدا کیا وہی جانتا ہے کہ انسان کی مصلحت اور ضرورت کیا ہے۔ جب کسی حکم کا مقصد پورا ہوجائے اور اس وقتی حکم کی میعاد پوری ہوجائے تو اللہ ایک جدید حکم لے آتا ہے کیونکہ جدید حالات میں اس جدید حکم کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور وہ زیادہ مناسب بھی ہوتا ہے۔ سابقہ وقتی حکم کے مقابلے میں اب یہ حکم دائمی اور ابد الدھر تک قائم رہنے کا اہل ہوتا ہے۔ اللہ ہی سب کچھ جانتا ہے اور آیات الہیہ کی مثال تو ایسی ہے کہ جس طرح مریض کو گھونٹ گھونٹ دوا پلائی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ شفایات ہوجاتا ہے۔ اب دوائی کے بجائے اسے معمول کی غذائیں دی جاتی ہیں تاکہ وہ معمول کی زندگی بسر کرے۔

لیکن مشرکین مکہ اس حکمت سے واقف نہ تھے ، اس لئے وہ یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ ایک آیت کے بعد دوسری آیت کیوں آرہی ہے۔ خود حضور کی زندگی میں قوانین کیوں بدل رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو اس پر محمول کیا کہ نعوذ باللہ حضور ﷺ اپنی طرف سے آیات بناتے ہیں ، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ حضور ﷺ تو صادق و امین ہیں اور کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتے ، چہ جائیکہ وہ اللہ پر جھوٹ بولیں۔

بل اکثر ھم لا یعلمون (61 : 101) ” حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے “۔