سورہ 10 Yunus — آیت 106
وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًۭا مِّنَ ٱلظَّٰلِمِينَ
اور خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تمہارا کچھ بھلا کرسکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے
walā tadʿu min dūni l-lahi mā lā yanfaʿuka walā yaḍurruka fa-in faʿalta fa-innaka idhan mina l-ẓālimīna
لفظ بہ لفظ
- وَلَا walā And (do) not
- تَدْعُ tadʿu invoke
- مِن min besides Allah
- دُونِ dūni besides Allah
- ٱللَّهِ l-lahi besides Allah
- مَا mā what
- لَا lā (will) not
- يَنفَعُكَ yanfaʿuka benefit you
- وَلَا walā and not
- يَضُرُّكَ ۖ yaḍurruka harm you
- فَإِن fa-in But if
- فَعَلْتَ faʿalta you did so
- فَإِنَّكَ fa-innaka indeed, you
- إِذًۭا idhan then (will be)
- مِّنَ mina of
- ٱلظَّـٰلِمِينَ l-ẓālimīna the wrongdoers
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
ولا تدع من دون اللہ ما لا ینفعک ولا یضرک اور نہ عبادت کرنا اللہ کے علاوہ۔ ایسی چیزوں کی جو تجھے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتیں (اگر تو ان کی پوجا کرے) اور نہ تجھے ضرر پہنچا سکتی ہے (اگر تو ان کی پوجا چھوڑ دے) (1) [ یعنی اللہ کے سوا کسی مخلوق کی عبادت نہ کر ، پکارنے سے مراد ہے عبادت کرنا ، کیونکہ مخلوق نفع و نقصان پہنچانے پر قدرت نہیں رکھتی ] یہ جملہ لاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ پر معطوف ہے اور اس کی تشریح ہے۔
یہ حقیقت ہے اور عقلی و نقلی شہادت سے اس کی تائید ہو رہی ہے کہ انصاف کی نظر سے اگر اس دین اسلام کو دیکھا جائے اور غور و تامل سے کام لیا جائے تو دین کی صحت ثابت ہوجاتی ہے اور دین کے خلاف ہر شک و شبہ خود دور ہوجاتا ہے۔
فان فعلت فانک اذا من الظلمین۔ اور اگر (بالفرض) تو نے ایسا کیا تو بلاشک ایسی حالت میں تو (ا اللہ کی) حق تلفی کرنے والوں میں سے ہوجائے گا۔ یعنی اگر تو ایسی چیز کی عبادت کرے گا جو فائدہ بخش بھی نہیں اور ضرر رساں بھی نہیں تو یقیناً ایسی حالت میں تو بیجا حرکت کرنے والا (ظالم) ہوگا کہ اپنی عبادت کا محور ایسی ہستی کو بنائے گا جو محل عبادت نہیں۔