مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 71 Nooh — آیت 15

سُورَةُ نُوحٍ · مکی · Fateh Muhammad Jalandhry

15

أَلَمْ تَرَوْا۟ كَيْفَ خَلَقَ ٱللَّهُ سَبْعَ سَمَٰوَٰتٍۢ طِبَاقًۭا

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں

alam taraw kayfa khalaqa l-lahu sabʿa samāwātin ṭibāqan

لفظ بہ لفظ

  • أَلَمْ alam Do not
  • تَرَوْا۟ taraw you see
  • كَيْفَ kayfa how
  • خَلَقَ khalaqa did create
  • ٱللَّهُ l-lahu Allah
  • سَبْعَ sabʿa (the) seven
  • سَمَـٰوَٰتٍۢ samāwātin heavens
  • طِبَاقًۭا ṭibāqan (in) layers
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

الم تروا ............................ سراجا (17 : 61) ” کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا ؟ “۔ سات آسمانوں کے مفوم کا تعین ہم ان سائنسی نظریات کے مطابق نہیں کرسکتے ، جو سائنس دان اس کائنات کے بارے میں گھڑتے رہتے ہیں۔ کیونکہ سائنسی نظریات تو مفروضات ہوتے ہیں۔

حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کو سات آسمانوں کی طرف متوجہ کیا اور اللہ نے ان کو بتایا کہ یہ سات ہیں۔ اور ان آسمانوں میں شمس وقمر اس طرح ہیں کہ ایک نور ہے اور دوسرا چراغ ہے۔ لوگ آسمانوں کو بھی دیکھ رہے تھے ، اور شمس وقمر کو بھی دیکھ رہے تھے۔ آسمان اس فضا سے عبارت ہے جو نیلگوں ہے۔ یہ ہے کیا ؟ اس کی حقیقت نہ وہ معلوم کرسکتے تھے اور نہ ان سے مطلوب تھا۔ نہ آج تک ان کی حقیقت معلوم ہوسکی ہے۔ اس حد تک وضاحت اس بات کے لئے کافی ہے کہ انسان اس ہولناک کائنات پر غور وفکر کرے اور دیکھے کہ قدرت الٰیہ نے کس قدر عجیب تخلیق کی ہے اور یہی مقصد تھا حضرت نوح (علیہ السلام) کا۔ اس کے بعد نوح (علیہ السلام) ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ اللہ نے تمہیں کس طرح زمین سے پیدا کیا اور کس طرح دوبارہ زمین کی طرف لوٹایا۔ پھر اس سے تمہیں نکالے گا۔