مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 7 Al-A'raaf — آیت 137

سُورَةُ الأَعۡرَافِ · مکی · Fateh Muhammad Jalandhry

137

وَأَوْرَثْنَا ٱلْقَوْمَ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَٰرِقَ ٱلْأَرْضِ وَمَغَٰرِبَهَا ٱلَّتِى بَٰرَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ ٱلْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ بِمَا صَبَرُوا۟ ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُۥ وَمَا كَانُوا۟ يَعْرِشُونَ

اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہٴ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا

wa-awrathnā l-qawma alladhīna kānū yus'taḍʿafūna mashāriqa l-arḍi wamaghāribahā allatī bāraknā fīhā watammat kalimatu rabbika l-ḥus'nā ʿalā banī is'rāīla bimā ṣabarū wadammarnā mā kāna yaṣnaʿu fir'ʿawnu waqawmuhu wamā kānū yaʿrishūna

لفظ بہ لفظ

  • وَأَوْرَثْنَا wa-awrathnā And We made inheritors
  • ٱلْقَوْمَ l-qawma the people
  • ٱلَّذِينَ alladhīna those who
  • كَانُوا۟ kānū were
  • يُسْتَضْعَفُونَ yus'taḍʿafūna considered weak
  • مَشَـٰرِقَ mashāriqa (the) eastern (parts)
  • ٱلْأَرْضِ l-arḍi (of) the land
  • وَمَغَـٰرِبَهَا wamaghāribahā and the western (parts) of it
  • ٱلَّتِى allatī which
  • بَـٰرَكْنَا bāraknā We blessed
  • فِيهَا ۖ fīhā [in it]
  • وَتَمَّتْ watammat And was fulfilled
  • كَلِمَتُ kalimatu (the) word
  • رَبِّكَ rabbika (of) your Lord
  • ٱلْحُسْنَىٰ l-ḥus'nā the best
  • عَلَىٰ ʿalā for
  • بَنِىٓ banī (the) Children
  • إِسْرَٰٓءِيلَ is'rāīla (of) Israel
  • بِمَا bimā because
  • صَبَرُوا۟ ۖ ṣabarū they were patient
  • وَدَمَّرْنَا wadammarnā And We destroyed
  • مَا mā what
  • كَانَ kāna used to
  • يَصْنَعُ yaṣnaʿu make
  • فِرْعَوْنُ fir'ʿawnu Firaun
  • وَقَوْمُهُۥ waqawmuhu and his people
  • وَمَا wamā and what
  • كَانُوا۟ kānū they used to
  • يَعْرِشُونَ yaʿrishūna erect
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

اس فیصلہ کن انداز کی مناسبت سے تصویر کا دوسرا رخ بھی اختصار کے ساتھ فیصلہ کن انداز میں دے دیا جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ کوئی دوسرا جابر آگیا بلکہ مستضعفین نے ملک میں اپنا اقتدار قائم کردیا یعنی بنی اسرائیل حکمران بن گئے۔ اس لیے کہ اس وقت وہ اصلاح کے معیار پر پورے اترے تھے۔ لیکن اس کے بعد جلد ہی وہ بگڑ گئے۔ اور اللہ نے ان پر ذلت اور جلا وطنی مسلط کردی۔ بنی اسرائیل کا یہ استخلاف مصر میں نہ تھا کہ وہ فرعون کے تخت پر بیٹھ گئے ، ان کا نظام حکومت شام میں برپا ہوا اور فرعون کی غرقابی کے بعد کئی سال کے بعد۔ اس وقت حضرت موسیٰ فوت ہوچکے تھے اور بنی اسرائیل تیہ کے صحرا میں چالیس سال خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرچکے تھے جیسا کہ قرآن نے دوسرے مقامات پر دیا ہے۔ یہاں قصے کے بیان میں ان کڑیوں کو حذف کردیا گیا ہے اور فرعون کی غرقابی کے بعد جلد ہی ، موقعہ و موضوع کی مناسبت سے بنی اسرائیل کے اقتدار کے قیام کا ذکر کردیا گیا۔

وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا ۭ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ڏ بِمَا صَبَرُوْا ۭوَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ ۔ اور ان کی جگہ ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے ، اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدہ خیر پورا ہوا کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کردیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے "

یعرشون کا مفہوم یہ ہے کہ وہ تعمیرات کرتے تھے ، اس سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ انگوروں کی بیلیں اپنی چھتوں پر چڑھاتے تھے۔

ہم انسان صرف زمان و مکان کے حدود کے اندر ہی سوچ سکتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ یہ واقعہ فلاں کے بعد یا اس سے پہلے ہوا کیونکہ ہم واقعات کو وقوع اور مرور کے بعد ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا عروج اور ان کا اقتدار فرعون کی غرقابی کے بعد پیش آیا۔ لیکن اللہ علیم وخبیر اور ماکان و ما یکون اس کے سامنے کھلے صفحات میں ہے۔ علم الٰہی مکان و زمان سے وراء ہے۔ اس کا عالم مثال بھی بلند ہے اور عالم علم تو اس کے عالم مثال تک بھی ایسا نہیں ہے۔

اب پردہ گرتا ہے ، ایک طرف ہلاکت و بربادی کے مناظر تھے ، دوسری جانب ضعفاء مسند اقتدار پر براجمان ہورہے تھے۔ ایک سرکش اور متکبر اور گردن فراز سمندر میں سرنگوں تھے۔ ان سے وہ تمام برتریاں ، تعمیرات اور سہولیات حیات چھوٹ گئیں۔ تمام باغ و راغ نظروں سے اوجھل ہوگئے ، چشم زدن میں سب کچھ ان کی نظروں میں نابود تھا ، اور اس منظر کشی میں قرآن نے چند الفاظ استعمال کیے اور اسے آڈیو کردیا۔

یہ مثال اللہ تعالیٰ مکہ کی ایک قلیل جماعت کے سامنے رکھتے ہیں۔ اہل شرک ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں ، شہر بدر کر رہے ہیں۔ چناچہ ان کے لیے شمع امید روشن کی جا رہی ہے۔ آج دنیا میں جہاں جہاں بھی لوگ اسلامی انقلاب کے لیے کام کر رہے ہیں ان کے لیے یہ شمع امید ہے۔ آج جو عواقب وہ جھیل رہے اور دار و رسن کو چوم رہے ہیں تو یقیناً اللہ اس دنیا کے مشرق و مغرب کو ان کے اقتدار میں دینے والا ہے کیونکہ انہوں نے صبر کیا مگر انعام کے طور پر نہیں آزمائش کے طور پر کہ دیکھا جائے کہ وہ کیا کرتے ہیں ؟