سورہ 68 Al-Qalam — آیت 41
أَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ فَلْيَأْتُوا۟ بِشُرَكَآئِهِمْ إِن كَانُوا۟ صَٰدِقِينَ
کیا (اس قول میں) ان کے اور بھی شریک ہیں؟ اگر یہ سچے ہیں تو اپنے شریکوں کو لا سامنے کریں
am lahum shurakāu falyatū bishurakāihim in kānū ṣādiqīna
لفظ بہ لفظ
- أَمْ am Or
- لَهُمْ lahum (are) for them
- شُرَكَآءُ shurakāu partners
- فَلْيَأْتُوا۟ falyatū Then let them bring
- بِشُرَكَآئِهِمْ bishurakāihim their partners
- إِن in if
- كَانُوا۟ kānū they are
- صَـٰدِقِينَ ṣādiqīna truthful
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
ام لھم ................ صدقین (86 : 14) ” یا پھر ان کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ہیں (جنہوں نے اس کا ذمہ لیا ہو) ؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے ان شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں “۔ یہ لوگ اللہ کے ساتھ کئی الہوں کو شریک ٹھہراتے تھے ، لیکن قرآن مجید ان کو اپنا شریک نہیں کہتا ، ان کا شریک کہتا ہے۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ اللہ کا شریک تو اللہ کو معلوم نہیں ہے۔ اور چیلنج دیتا ہے کہ یہ جو سمجھتے ہیں کہ ہیں تولے آئیں تاکہ ان کو دیکھا جائے ، لیکن کہاں سے لائیں ؟