سورہ 52 At-Tur — آیت 48
وَٱصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا ۖ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ
اور تم اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو۔ تم تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو اور جب اُٹھا کرو تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیا کرو
wa-iṣ'bir liḥuk'mi rabbika fa-innaka bi-aʿyuninā wasabbiḥ biḥamdi rabbika ḥīna taqūmu
لفظ بہ لفظ
- وَٱصْبِرْ wa-iṣ'bir So be patient
- لِحُكْمِ liḥuk'mi for (the) Command
- رَبِّكَ rabbika (of) your Lord
- فَإِنَّكَ fa-innaka for indeed, you
- بِأَعْيُنِنَا ۖ bi-aʿyuninā (are) in Our Eyes
- وَسَبِّحْ wasabbiḥ And glorify
- بِحَمْدِ biḥamdi (the) praise
- رَبِّكَ rabbika (of) your Lord
- حِينَ ḥīna when
- تَقُومُ taqūmu you arise
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
واصبرالحکم ربک (25 : 84) ” آپ اپنے رب کے فیصلے تک صبر کریں “ لیکن صبر کے حکم کے ساتھ ساتھ آپ کو ایک زبانی اعزاز بھی دیا جاتا ہے۔ اللہ کی عنایت کے لئے آپ مستحق قرار پاتے ہیں۔ آپ کو ایسی محبت دی جاتی ہے کہ اس دست محبت سے آپ کے تمام الم اور تھکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور یہ فرمایا جاتا ہے کہ مشکلات پر صبر اللہ کے نزدیک بہت ہی محبوب اور پسندیدہ امر ہے اور یہی اس اعزاز کا ذریعہ اور نسبت ہے۔
واصبر لحکم ربک فانک باعیننا (25 : 84) ” اے نبی اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو ، تم ہماری نگاہ میں ہو “ کیا ہی خوبصورت تعبیر ہے اور کیا ہی بہترین تصویر ہے اور کس قدر بڑا اعزاز ہے۔
یہ وہ مقام اعزاز ہے جس تک کوئی انسان نہیں پہنچ سکا۔ پورے قرآن میں اس مقام کو اس قدر خوبصورت انداز میں نہیں دکھایا گیا یہاں تک کہ دوسرے نبیوں کے لئے ایسی ہی ہدایات کے موقع پر بھی کوئی ایسی خوبصورت تعبیر نہیں ہے۔