مواد پر جائیں
قرآنِ کریم 49 زبانوں میں ترجمہ اور تلاوت کے ساتھ پڑھیں  پڑھنا شروع کریں →
Islam Word Quran & Seerah

سورہ 17 Al-Israa — آیت 46

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ · مکی · Fateh Muhammad Jalandhry

46

وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرًۭا ۚ وَإِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِى ٱلْقُرْءَانِ وَحْدَهُۥ وَلَّوْا۟ عَلَىٰٓ أَدْبَٰرِهِمْ نُفُورًۭا

اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کر دیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں

wajaʿalnā ʿalā qulūbihim akinnatan an yafqahūhu wafī ādhānihim waqran wa-idhā dhakarta rabbaka fī l-qur'āni waḥdahu wallaw ʿalā adbārihim nufūran

لفظ بہ لفظ

  • وَجَعَلْنَا wajaʿalnā And We have placed
  • عَلَىٰ ʿalā over
  • قُلُوبِهِمْ qulūbihim their hearts
  • أَكِنَّةً akinnatan coverings
  • أَن an lest
  • يَفْقَهُوهُ yafqahūhu they understand it
  • وَفِىٓ wafī and in
  • ءَاذَانِهِمْ ādhānihim their ears
  • وَقْرًۭا ۚ waqran deafness
  • وَإِذَا wa-idhā And when
  • ذَكَرْتَ dhakarta you mention
  • رَبَّكَ rabbaka your Lord
  • فِى fī in
  • ٱلْقُرْءَانِ l-qur'āni the Quran
  • وَحْدَهُۥ waḥdahu Alone
  • وَلَّوْا۟ wallaw they turn
  • عَلَىٰٓ ʿalā on
  • أَدْبَـٰرِهِمْ adbārihim their backs
  • نُفُورًۭا nufūran (in) aversion
تفسیر · Fi Zilal al-Quran

اذا ذکرت ربک فی القران وحدہ ولا علی ادبار ھم نفورا (71 : 64) ۔

ترجمہ : ” اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں “۔ یہ نفرت ان کو لفظ وحدہ سے تھی۔ کیونکہ عقیدہ توحید ان کے اجتماعی نظام کو ختم کر رہا تھا۔ ان کا اجتماعی نظام بت پرستی اور جاہلیت کے رسم و رواج پر قائم تھا ، جس میں قریش کی امتیازی حیثیت تھی ، ورنہ وہ خود جانتے تھے کہ ان کے عقائد میں کس قدر جھول ہے اور اسلام کے نظریات کس قدر پختہ ہیں۔ نیز وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قرآن ایک نہایت ہی بلند پایہ پیغام و کلام ہے۔ اور اس کی ایک امتیازی شان ہے۔ اور قرآن کے اثرات کا یہ عالم تھا کہ وہ اس کی طرف کھینچے چلے جاتے تھے حالانکہ وہ اس سے اپنے آپ کو بچانے کی سعی بھی کرتے تھے اور اس کے اثرات کو زائل کرنے میں جدوجہد بھی کرتے تھے۔

ان کا ضمیر اور ان کی فطرت ان کو اس بات پر مجبور کررہی تھی کہ وہ بات سنیں ، متاثر ہوں ، لیکن غرور کی وجہ سے وہ تسلیم کرنے اور یقین کرنے سے باز رو رہے تھے۔ اپنی ہٹ دھرمی اور مکابرہ کو وہ یوں چھپاتے تھے کہ رسول اللہ پر مختلف قسم کے الزامات عائد کرتے تھے۔ مثلاً یہ کہ آپ جادوگر ہیں۔