سورہ 17 Al-Israa — آیت 42
قُل لَّوْ كَانَ مَعَهُۥٓ ءَالِهَةٌۭ كَمَا يَقُولُونَ إِذًۭا لَّٱبْتَغَوْا۟ إِلَىٰ ذِى ٱلْعَرْشِ سَبِيلًۭا
کہہ دو کہ اگر خدا کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور (خدائے) مالک عرش کی طرف (لڑنے بھڑنے کے لئے) رستہ نکالتے
qul law kāna maʿahu ālihatun kamā yaqūlūna idhan la-ib'taghaw ilā dhī l-ʿarshi sabīlan
لفظ بہ لفظ
- قُل qul Say
- لَّوْ law If
- كَانَ kāna (there) were
- مَعَهُۥٓ maʿahu with Him
- ءَالِهَةٌۭ ālihatun gods
- كَمَا kamā as
- يَقُولُونَ yaqūlūna they say
- إِذًۭا idhan then
- لَّٱبْتَغَوْا۟ la-ib'taghaw surely they (would) have sought
- إِلَىٰ ilā to
- ذِى dhī (the) Owner
- ٱلْعَرْشِ l-ʿarshi (of) the Throne
- سَبِيلًۭا sabīlan a way
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
جیسا کہ نحویوں نے کہا ہے کو حرف امتناع ہے اور یہ استعمال ہی قضیہ معنفہ پر ہوتا ہے ، لہٰذا اللہ کے سوا الہوں کا وجود ہی ناممکن ہے۔ اور جن ہستیوں کو یہ الہہ بناتے ہیں وہ خود اللہ کی مخلوقات ہیں۔ چاہے وہ ستارے ہوں ، سیارے ہوں ، انسان ہوں یا حیوان ہوں ، نباتات ہوں یا جمادات ہوں۔ اور یہ تمام مخلوقات قانون قدرت کے مطابق سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہیں اور یہ سب مخلوقات ارادہ باری تعالیٰ کی مطیع فرمان ہیں۔ اور ہر چیز اللہ کی طرف رواں دواں ہے۔
اذا لا بتغوا الی ذی العرش سبیلا (71 : 24) ” تو وہ مالک عرش کے مقام کو پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے “ یہاں عرش سے مراد مطلق بلندی اور ان مخلوقات پر برتری ہے جن کو یہ لوگ الہ سمجھتے ہیں۔ یہ تمام مخلوق اللہ کے عرش کے تحت ہیں اور اللہ کی حکمرانی میں کوئی اس کا شریک نہیں۔