سورہ 17 Al-Israa — آیت 21
ٱنظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۚ وَلَلْءَاخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَٰتٍۢ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًۭا
دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ اور آخرت درجوں میں (دنیا سے) بہت برتر اور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے
unẓur kayfa faḍḍalnā baʿḍahum ʿalā baʿḍin walalākhiratu akbaru darajātin wa-akbaru tafḍīlan
لفظ بہ لفظ
- ٱنظُرْ unẓur See
- كَيْفَ kayfa how
- فَضَّلْنَا faḍḍalnā We preferred
- بَعْضَهُمْ baʿḍahum some of them
- عَلَىٰ ʿalā over
- بَعْضٍۢ ۚ baʿḍin others
- وَلَلْـَٔاخِرَةُ walalākhiratu And surely the Hereafter
- أَكْبَرُ akbaru (is) greater
- دَرَجَـٰتٍۢ darajātin (in) degrees
- وَأَكْبَرُ wa-akbaru and greater
- تَفْضِيلًۭا tafḍīlan (in) excellence
تفسیر · Fi Zilal al-Quran
” مگر دیکھ لو ، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے۔ اور آخرت میں اس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے ، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی “۔ اس لئے اگر کوئی حقیقی طور پر بلند مرتبہ چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اس عظیم اور سچی تفاوت و امتیاز کے لئے جدوجہد کرے جو آخرت میں ہوگی ، جس کا میدان وسیع اور جہاں کسی جگہ کوئی تنگی اور کمی نہیں ہے۔ اور وہ اس قدر وسیع ہے کہ اس کی حدود سے صرف اللہ ہی خبردار ہے اور جو لوگ مقام امتیاز میں باہم مقابلہ کرنا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ مقام آخرت کے لئے مقابلہ کریں۔ دنیائے دنی کے حقیر اور قلیل ساز و سامان کے لئے کیا بھاگنا !